Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہجنگ کے بادل اچانک چھٹنے لگے؟ ٹرمپ نے ایران پر حملے منسوخ...

ٹرینڈنگ

جنگ کے بادل اچانک چھٹنے لگے؟ ٹرمپ نے ایران پر حملے منسوخ کر دیے، مذاکرات کی منظوری کا حیران کن دعویٰ

جنگ کے بادل اچانک چھٹنے لگے؟ ٹرمپ نے ایران پر حملے منسوخ کر دیے، مذاکرات کی منظوری کا حیران کن دعویٰ

مشرقِ وسطیٰ میں کئی روز سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایک غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی حملے منسوخ کر دیے گئے ہیں کیونکہ تہران کی قیادت نے تنازع کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکراتی عمل اب ایرانی قیادت کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول ان مذاکرات سے متعلق “آخری نکات اور بات چیت” کو منظوری مل گئی ہے، جس کے بعد فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی صدر ٹرمپ نے ایران کو “انتہائی سخت” فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ اسی وجہ سے ان کے تازہ بیان نے عالمی سفارتی حلقوں میں حیرت پیدا کر دی ہے اور اسے ممکنہ طور پر جنگ کے خطرات میں عارضی کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر واقعی تہران اور دیگر متعلقہ فریق مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر آمادہ ہو گئے ہیں تو یہ حالیہ بحران میں پہلی بڑی سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ تاہم اب تک ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی مکمل اور تفصیلی تصدیق سامنے نہیں آئی، جس کے باعث صورتِ حال بدستور غیر یقینی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے تک لے آئی تھی، لیکن اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ بحران ایک نئے سفارتی مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔

فی الحال عالمی دارالحکومتوں اور توانائی کی منڈیوں کی نظریں انہی مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے سیاسی اور معاشی حالات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے

مزید پڑھیں