بھارت کا بڑا معاشی فیصلہ، پیٹرول میں ایتھنول کے زیادہ استعمال پر ٹیکس ختم
بھارت کا بڑا معاشی فیصلہ، پیٹرول میں ایتھنول کے زیادہ استعمال پر ٹیکس ختم
نئی دہلی: بھارت نے توانائی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے ایسے پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی ہے جس میں ایتھنول کی آمیزش بائیس فیصد سے تیس فیصد کے درمیان ہو۔ اس فیصلے کا مقصد درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنا اور قابلِ تجدید ایندھن کے استعمال کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام سے ملک میں ایتھنول کی پیداوار اور استعمال میں اضافہ متوقع ہے، جس کے ذریعے زرعی شعبے کو بھی بالواسطہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ ایتھنول زیادہ تر زرعی اجناس سے تیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت پہلے ہی پیٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، اور اب اس نئی مراعاتی پالیسی کے بعد ریفائنریز اور توانائی کمپنیاں اس سمت میں مزید سرمایہ کاری کریں گی۔
توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے بھارت کی تیل درآمدی بل میں کمی آ سکتی ہے اور عالمی تیل منڈی پر اس کا محدود مگر واضح اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب کئی ممالک توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
یہ قدم بھارت کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت وہ توانائی کی خود کفالت بڑھانے اور عالمی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے


