امریکہ میں توانائی کی تاریخ کا نیا باب، سورج نے کوئلے کو پیچھے چھوڑ دیا
امریکہ میں توانائی کی تاریخ کا نیا باب، سورج نے کوئلے کو پیچھے چھوڑ دیا
واشنگٹن: امریکہ میں پہلی بار سورج سے حاصل ہونے والی توانائی نے کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جسے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ ملک میں توانائی کے بدلتے ہوئے رجحانات کا واضح اشارہ ہے۔
توانائی کے اعداد و شمار کے تازہ تجزیے کے مطابق مئی کے دوران سورج کی روشنی سے پیدا ہونے والی بجلی کا حصہ بارہ اعشاریہ آٹھ فیصد رہا، جبکہ کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی بارہ اعشاریہ دو فیصد تک محدود ہو گئی۔ یوں پہلی مرتبہ سورج امریکہ میں بجلی کا تیسرا بڑا اور تیزی سے بڑھنے والا ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔
صرف پانچ برس قبل صورتحال اس کے برعکس تھی۔ اس وقت سورج سے حاصل ہونے والی توانائی موجودہ سطح کے نصف سے بھی کم تھی جبکہ کوئلہ قومی بجلی پیداوار کا تقریباً بیس فیصد حصہ فراہم کر رہا تھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں شمسی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور کم لاگت نے اس شعبے کو غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکساس سے لے کر کیلیفورنیا تک مختلف ریاستیں بڑھتی ہوئی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے سورج کی توانائی پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔ اگرچہ قدرتی گیس اور جوہری توانائی اب بھی امریکہ کے بڑے ذرائع ہیں، لیکن شمسی توانائی کی تیز رفتار ترقی نے توانائی کے شعبے کا نقشہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی توانائی پالیسی بتدریج روایتی ایندھن سے ہٹ کر قابلِ تجدید ذرائع کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں کوئلے کا کردار مزید محدود اور سورج کی توانائی کا حصہ مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک صنعتی ترقی کی بنیاد رہنے والا کوئلہ اب آہستہ آہستہ توانائی کے نئے دور کے سامنے اپنی برتری کھوتا جا رہا ہ


