امریکی خفیہ نگرانی کا اہم قانون خطرے میں، صدر ٹرمپ کے متنازع نامزد امیدوار پر سیاسی جنگ شدت اختیار کر گئی
امریکی خفیہ نگرانی کا اہم قانون خطرے میں، صدر ٹرمپ کے متنازع نامزد امیدوار پر سیاسی جنگ شدت اختیار کر گئی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قومی خفیہ اداروں کی سربراہی کے لیے ایک عارضی اور متنازع تقرری نے ملک کے اہم ترین خفیہ نگرانی کے قانون کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کانگریس میں شدید سیاسی کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے قومی خفیہ اداروں کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے مستقل شخصیت نامزد کرنے کے بجائے رہائشی مالیاتی نظام کے نگران بل پلٹے کو عارضی طور پر اس منصب پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس قومی سلامتی اور خفیہ معلومات کے شعبے کا خاطر خواہ تجربہ موجود نہیں۔
دوسری جانب حزبِ اختلاف کے ارکان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ غیر ملکی نگرانی کے قانون کی شق سات سو دو کی تجدید کی حمایت نہیں کریں گے جب تک صدر ٹرمپ موجودہ تقرری واپس لے کر کسی مستقل اور تجربہ کار امیدوار کو نامزد نہیں کرتے۔
یہ شق امریکی خفیہ اداروں کو بیرونِ ملک موجود غیر ملکی افراد کی نگرانی اور معلومات جمع کرنے کے وسیع اختیارات فراہم کرتی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس قانون نے دہشت گردی، جاسوسی اور بیرونی خطرات کا سراغ لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جبکہ ناقدین اسے شہری آزادیوں اور نجی زندگی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کانگریس میں تعطل برقرار رہا تو پہلی مرتبہ اس اہم قانون میں خلل پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خفیہ اداروں کی بعض نگرانی کی صلاحیتیں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
یہ تنازع صرف ایک تقرری کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، اختیارات کی تقسیم اور خفیہ اداروں پر سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں ایک بڑی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں امریکی سیاست اور سلامتی کے نظام پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہی


