Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہآبنائے ہرمز پر جنگ کے بادل گہرے، ایران اور امریکہ کے درمیان...

ٹرینڈنگ

آبنائے ہرمز پر جنگ کے بادل گہرے، ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے روز بھی حملوں کا تبادلہ

آبنائے ہرمز پر جنگ کے بادل گہرے، ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے روز بھی حملوں کا تبادلہ

واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے مسلسل دوسرے روز ایک دوسرے کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوری طور پر امن معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں مزید حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ کشیدگی کا آغاز آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد ہوا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے اندر فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی تنصیبات اور فضائی دفاعی مراکز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیج میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس دوران کویت اور بحرین میں بھی نئے فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ بدستور کھلی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اپریل میں طے پانے والی جنگ بندی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر کشیدگی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔

عالمی دارالحکومتوں میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف ممالک دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم زمینی صورتحال اس وقت کسی فوری مفاہمت کے بجائے مزید کشیدگی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی

مزید پڑھیں