Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانڈار فیملی اسکینڈل : کرپٹو کرنسی تنازع اور مبینہ واقعے سے متعلق...

ٹرینڈنگ

ڈار فیملی اسکینڈل : کرپٹو کرنسی تنازع اور مبینہ واقعے سے متعلق نئے سوالات اٹھ گئے، پولیس مؤقف اور زمینی حقائق میں تضاد سامنے آگیا

ڈار فیملی اسکینڈل : کرپٹو کرنسی تنازع اور مبینہ واقعے سے متعلق نئے سوالات اٹھ گئے، پولیس مؤقف اور زمینی حقائق میں تضاد سامنے آگیا

پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار اور اسکے ساتھیوں کی دو غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی کے الزام کی میڈیکل رپورٹ میں تصدیق ہوگئی ہے تاہم رپورٹ کے مطابق ایک خاتون سے زیادتی کی گئی جبکہ دوسری سے صرف دست درازی کی گئی ، لاہور پولیس جس نے ابتدائ مرحلے میں دعویٰ کیا تھا ملزمان کے خلاف غیر ملکی خواتین میں شامل ایک خاتون کے باپ نے ہالینڈ سے پولیس نمبر پر کال کرکے رپورٹ کروائ جس کے بعد ملزمان کو گرفتار کرکے خواتین کو بر آمد کیا گیا تاہم اب روزنامہ پاکستان کی ایک ویڈیو رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے ملزمان خواتین کو اغوا کرکے جس گاڑی میں لے جارہے تھے وہ سڑک پر کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی ، جس کے نتیجے میں غیر ملکی خواتین کو گاڑی سے باہر نکلنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے شور مچا دیا اور اس موقع پر ملزمان کی کار سے ٹکرانے والی دوسری کار کے ڈرئیور نے پولیس کال کردی تھی جس کے باعث سارا معاملہ سامنے آیا ، تاہم اب لاہور کے ڈی آئ جی کامران فیصل جو میاں خاندان کے قریب بتائے جاتے ہیں جہاں ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے حکم دیا ہے واقعہ میں ملوث کسی ملزم سے کوئ رعایت برتی جائے نہ ہی کوئ بات چھپائ جائے اب پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ہیں خواتین کی برآمدگی کے وقت اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار بھی بندھے ہاتھ ملے جس کا مطلب ہے ملزمان نے خواتین کے ساتھ انہیں بھی اغوا کرلیا تھا ، اس موقع پر صحافیوں نے ڈی آئ جی لاہور کامران فیصل سے سخت ترین سوالات کیے جن سے گھبرا کر ڈی آئ جی کامران فیصل اٹھ کر چلے گئے ، کہا جارہا ہے خواتین کے گینگ ریپ میں کرپٹو کرنسی کاروبار کا اہم کردار ہے جو ان دنوں اسحاق ڈار کے ساتھ میاں خاندان کا بھی اہم کاروبار ہے اور اس کاروبار میں فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ملوث بتای جاتی ہے ، ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے فیلڈ مارشل کی سفارش پر تعینات وزیر اعظم کے مشیر برائے ڈیجٹل ٹیکنالوجی ثاقب بلال کا نام بھی اس واقعہ میں سامنے آیا ئے جس کے بعد کیس پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتا جارہا ہے ، ادھر ملک کے دانشور حلقے روز نامہ پاکستان کی میڈیا رپورٹ میں کیے گئے انکشافات کے بعد پولیس کا بھانڈہ پھوٹ جانے پر کہتے ہیں معروف صحافی اور مبصر Mujeeb Shami کے زیرِانتظام آن لائن پلیٹ فارم ڈیلی پاکستان کی ایک ویڈیو رپورٹ میں ایک ایسے واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں کرپٹو کرنسی کے کاروباری تنازع، مبینہ زیادتی کے الزامات اور ایک ٹریفک حادثے کی ابتدائی رپورٹ کو چیلنج کرکے اسے غلط ثابت کیا گیا ، مجیب شامی جو بظاہر میاں خاندان کے انتہائ قریب سمجھے جاتے ہیں انکے میڈیا پلیٹ فارم سے ن لیگ حکومت کی سرکاری بد انتظامی کے ساتھ دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنا انتہائ معنی خیز بھی ہے اور آنے والے دنوں کا اشارہ بھی ہے کے جنکے بارے میں لاہوری میڈیا گروپ کے اسٹیبلشمنٹی ہرکارے جولائ میں حکومت جانے یا اسے چلتا کرنے کی مہم کے آغاز سے جوڑتے ہیں اور مجیب شامی اس لاہوری میڈیا گروپ کا اہم ستون تصور کیے جاتے ہیں، ادھر کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے غیر ملکی خواتین اور ڈار فیملی کے درمیان کچھ لو اور دو کے اصول کے تحت اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں 164 کا بیان حلفی دلوا کر مُک مکُا کروادیا گیا ہے اور غیر ملکی خواتین پاکستان سے واپس جاچکی ہیں

مزید پڑھیں