Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہبرقی گاڑیوں کی عالمی دوڑ میں امریکہ دباؤ کا شکار، سستے چینی...

ٹرینڈنگ

برقی گاڑیوں کی عالمی دوڑ میں امریکہ دباؤ کا شکار، سستے چینی ماڈلز نے صنعت کا رخ بدل دیا

برقی گاڑیوں کی عالمی دوڑ میں امریکہ دباؤ کا شکار، سستے چینی ماڈلز نے صنعت کا رخ بدل دیا

امریکہ میں برقی گاڑیوں کی صنعت ایک نئے اور سخت مقابلے کے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عالمی مقابلے نے مقامی کمپنیوں کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورتحال میں سستی چینی گاڑیوں نے عالمی منڈی میں مضبوط اثر قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی شہر ڈیٹرائٹ میں ایک نئی اسٹارٹ اپ کمپنی سلیٹ آٹو نے اپنی برقی گاڑی متعارف کرائی ہے، جو تقریباً پچیس ہزار ڈالر کی قیمت کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں نسبتاً سستی گاڑیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس کی حمایت سے چل رہا ہے۔

کمپنی کی جانب سے اسے “قابلِ خرید” برقی پک اپ ٹرک کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمت بھی عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مسابقت کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی برقی گاڑیوں کی صنعت اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جسے بعض ماہرین “سنہری دور” قرار دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ سستے اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے چینی ماڈلز ہیں، جن کی قیمت بعض صورتوں میں دس ہزار ڈالر تک بھی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ صورتحال امریکی آٹو انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے، جہاں قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کے مسائل اور صنعتی پالیسیوں کی پیچیدگیوں نے مسابقت کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو عالمی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں طاقت کا توازن تیزی سے ایشیائی خصوصاً چینی کمپنیوں کی طرف منتقل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات امریکہ اور یورپ کی آٹو انڈسٹری پر طویل مدتی طور پر محسوس ہوں گے

مزید پڑھیں