ستھرا پنجاب دو سینٹری ورکرز نگل گیا
ستھرا پنجاب دو سینٹری ورکرز نگل گیا
بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں سیوریج لائن کی صفائی کے دوران دم گھٹنے سے میونسپل کمیٹی کے دو سینٹری ورکرز جان سے چلے گئے جبکہ تیسرے کو زندہ نکال لیا گیا
صفائی کے دوران حفاظتی کٹس نہ ہونے پر آپریشن انچارج کو معطل کرکے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، بتایا جاتا ہے پنجاب جہاں بلدیاتی انتخابات میاں خاندان کے لیے ہمیشہ سیاسی نزع کا مسئلہ بنے رہے ہیں بلدیاتی ادارے قریبا منجمد ہیں تاہم صوبے کی وزیر اعلیٰ سب جانتے بوجھتے بھی شہری بلدیاتی اداروں پر ضروریات کی ناپیدگی کے باوجود پوری پرفارمنس دینے پر زور دیتی ہیں ، یہاں بھی سیوریج سسٹم کی صفائی کے لیے بنیادی مشنری اور اوزار سے محروم اہکاروں کو گٹر میں زبردستی اترنے پر مجبور کیا گیا ، ادارے کے واقفان حال کا کہنا ہے
آپریشن کے دوران حفاظتی ماسک، آکسیجن سلنڈر اور دیگر لازمی حفاظتی آلات کی فراہمی اور استعمال کو یقینی نہیں بنایا گیا، جس کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
چیف آفیسر نے واقعے کی تحقیقات کے لیے میونسپل آفیسر چشتیاں کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے دو روز میں ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ورثا کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن میں اترتے وقت حفاظتی کٹس بھی فراہم نہیں کی گئی تھیں۔


