Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںڈنکی 2.0” کا نیا چہرہ: کریپٹو اور ہنڈی نیٹ ورکس کے ذریعے...

ٹرینڈنگ

ڈنکی 2.0” کا نیا چہرہ: کریپٹو اور ہنڈی نیٹ ورکس کے ذریعے غیر قانونی ہجرت کی بڑھتی معیشت پر انکشاف

ڈنکی 2.0” کا نیا چہرہ: کریپٹو اور ہنڈی نیٹ ورکس کے ذریعے غیر قانونی ہجرت کی بڑھتی معیشت پر انکشاف

یورپ میں بڑھتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں اور نئی ویزا کھڑکیوں کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب اور پاکستان کے دیہی علاقوں میں ایک نئی غیر رسمی معیشت تیزی سے جنم لے رہی ہے، جہاں غیر قانونی ہجرت کے نیٹ ورکس اب روایتی “ڈنکی” راستوں سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل اور کرپٹو کرنسی پر مبنی نظام میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورک اب صرف انسانی اسمگلنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ ہنڈی، حوالہ اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی لین دین کو چھپانے اور سرحد پار ادائیگیوں کے لیے ایک پیچیدہ نظام اختیار کر چکے ہیں، جس کی مالیت بعض اندازوں کے مطابق کروڑوں ڈالر سالانہ تک پہنچتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسپین سمیت یورپ کے بعض ممالک کی جانب سے بڑی تعداد میں قانونی ہجرت کے دروازے کھلنے کے بعد پاکستان کے دیہی علاقوں میں “ویزا ٹریڈ” ایک منافع بخش مگر غیر قانونی کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں اصل پاسپورٹ، جعلی دستاویزات اور ایجنٹ نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں کو یورپ پہنچانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

اسی دوران سوشل میڈیا خصوصاً ٹک ٹاک اور واٹس ایپ اس نیٹ ورک کے لیے ایک نیا مارکیٹنگ پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں یورپ میں مقیم افراد کے وائرل ویڈیوز اور لائف اسٹائل کلپس نوجوانوں میں “باہر جانے” کی خواہش کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

تاہم اس رجحان پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے، کچھ حلقے اسے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے عالمی معاشی ناہمواری اور روزگار کے بحران کا نتیجہ سمجھتے ہیں

مزید پڑھیں