Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہوم Live

Live

2 weeks ago

اسٹیٹس دوسو بلین ڈالر:کھاناکچی گلی میں دو ڈالر کا نوڈل

یہ صرف ایک “نوڈلز کھانے” کی کہانی نہیں تھی — یہ دراصل جدید دنیا کی سب سے بڑی ٹیک جنگ کے بیچ ایک خاموش سفارتی اشارہ تھا۔جینسن ہوانگ، جو تائیوان میں پیدا ہوئے اور بعد میں امریکہ آ کر دنیا کی سب سے طاقتور اے آئی کمپنی این ویڈیا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر […]
9 months ago

پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا پیش خیمہ

پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایس ڈی ایم اے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا پیش خیمہ ہو گا اور فوری طور پر جو چند اقدامات متوقع ہیں ان میں مشترکہ فوجی مشقوں سمیت پاکستانی فوج اور ایئرفورس ماضی کی طرح سعودی عرب میں تعینات ہو سکتی ہے۔ جس سے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔

پاکستانی لیبر کو ملازمتوں کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آسان شرطوں یا ڈیفر پیمنٹ پر تیل کی فراہمی ممکن ہو سکے گی اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان کے اسٹریٹجک رول کو بھی تقویت ملے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی قیادت مسلم اُمّہ کے روایتی تصور سے ہٹ کر اپنے ممالک کی اقتصادی ترقی، قومی سلامتی اور اپنے سروائیوال کے لئے مغربی ممالک خصوصاً امریکہ پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے حکمران امریکہ کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاسکتے۔ اس لئے جو لوگ حالیہ پاک سعودی معاہدے کو قطر پر اسرائیلی اسٹرائک کے پس منظر میں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ پاکستان سے سعودی عرب کا فوجی اشتراک اسرائیل اور مغرب کیخلاف ستون بن کر کھڑا ہو گا تو ان کو اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ سعودی عرب اور اس کے شاہی حکمران امریکہ کی مرضی اور اجازت کے بغیر پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ تو درکنار روٹین کے تعلقات بھی نہیں رکھ سکتے اور حالیہ پاک سعودی ایگریمنٹ بھی امریکہ کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکی ضرورت کیوں پیش آئی جب کہ سعودی عرب کے ایران کیساتھ تعلقات میں بہت حد تک بہتری آئی ہے۔ یمن کے باغی بھی سعودیہ کیخلاف کاروائیاں ترک کرچکے ہیں اور اسرائیل بھی براہ راست سعودی عرب کے ساتھ فی الحال کسی تنازعے میں الجھنا نہیں چاہتا۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کا بظاہر مقصد یہ نظر آ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں اندرونی بےچینی کو روکنے اور بیرونی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کیلئے ایک ایٹمی مسلمان ملک کی فوج دوسرے اسلامی ممالک کی حفاظت کرے گی جسکا بھرپور معاوضہ دیا جائے گا، جہاں تک تعلق ہے بھارت کا تو اس کے مفادات پر کوئی ضرب نہیں آنے والی، ماسوائے پاکستان کی اقتصادیات میں کچھ بہتری بھارتیوں کیلیئے تکلیف کا باعث ہو گی۔

9 months ago

امریکی سینیٹ میں ہائر ایکٹ متعارف، بھارت میں کھلبلی

اوہائیو سے ری پبلیکن سینیٹر برنی مورینو نے “دی ہائر ایکٹ “کے نام سے ایک بل سینٹ میں پیش کیا ہے جس میں بیرون ملک سے امریکی کمپنیوں اور شہریوں کو سروسز فراہم کرنے پر حاصل ہونے والی رقوم پر 25فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس بل کے متعارف ہونے سے بھارت کی ٹیک آؤٹ سورسنگ ،آئی ٹی ، بی پی او اور سروسز سیکٹر میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اگر یہ بل اسی صورت میں سینیٹ اور کانگریس سے پاس ہو جاتا ہے تو بھارت میں بزنس کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیوں ٹاٹا کنسلٹنگ ،وائپرو، ایچ سی ایل ٹیک ، انفوسس ، ٹیک مہندرا، ایل ٹی آئی مائنڈ ٹری، جنپیکٹ سمیت امریکہ کی جائنٹ کمپنیوں اور بینکس کے ہندوستان میں کاروبار آؤٹ سورس کرنے پر حاصل آمدنی پر ٹیکس عائد ہونے سے بھارت کی 300 بلین ڈالر کی آئی ٹی انڈسٹری اور سروسز سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

بھارت کے علاوہ فلپائن، ویتنام سمیت لاطینی امریکہ کے چند ممالک بھی اس بل سے متاثر ہوں گے جہاں امریکی کمپنیاں سروسز اور جابز آؤٹ سورس کرتی ہیں ۔ پاکستان کی ابھرتی ہوئی آئی ٹی انڈسٹری ، گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز اور فری لانسرز جو امریکی کلائنٹس کو سروسز فراہم کرتے تھے ان کو بھی اس بل سے ضرب پہنچے گی۔ اس بل کی کامیابی کے بعد حاصل ہونے والی خطیر رقم امریکی شہریوں کو ملازمتوں کی فراہمی اور ان کی ٹریننگ پر صرف کی جائے گی ۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکہ فرسٹ منصوبے اور اے آئی ایکشن پلان 2025 کو مد نظر رکھتے ہوئے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جن میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ، ایچ ون بی ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کو مشکل بنانے سمیت بیرونی ممالک پر انحصار کو کم سے کم کیا جائے گا ۔

9 months ago

نیویارک کےمیئر ایرک ایڈمز کو سعودی عرب میں سفیر مقرر کیا جا سکتا ہے؟

(اے ڈبلیوآر) نومبر میں میئر نیویارک کیلئے ہونے والے الیکشن میں اب تک کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار زہران ممدانی بڑے مارجن سے سبقت لئے ہوئے ہیں۔ ممدانی نے اپنے حمایتیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مزید فنڈز کی ضرورت نہیں ہے اور سپورٹرز فنڈریزنگ کے بجائے ان کی کامیابی کیلئے والنٹیر ورک کریں۔ نیویارک میں قیام پذیر پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹی بھی ممدانی کی کیمپین اور فنڈ ریزنگ میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔ جن میں ڈاکٹر اور بزنس مین بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
زہران ممدانی کی مضبوط پوزیشن دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اگر دو امیدوار موجودہ میئر ایرک ایڈمز اور ریپبلیکن امیدوار کرٹس سلوا میئر نیویارک کے الیکشن سے دستبردار ہو جائیں تو سابق گورنر اینڈریو کومو اپنے مخالف ڈیموکریٹ امیدوار زہران ممدانی کو شکست دے سکتے ہیں۔

خبروں کے مطابق میئر ایرک ایڈمز کو الیکشن سے دست بردار ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ سعودی عرب میں سفیر یا کوئی اور عُہدہ دے سکتے ہیں جبکہ ریپبلیکن امیدوار کرٹس سلوا کی بھی الیکشن سے دستبرداری کی صورت میں کسی عہدے پر تعیناتی ہو سکتی ہے ۔ موجودہ میئر ایرک ایڈمز جو مختلف سروے کیمطابق چوتھے نمبر پر ہیں انکا دوبارہ میئر بننا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے ، انہوں نے اپنے دور میں امیگرنٹس خصوصاً پاکستانی کمیونٹی کیساتھ قریبی روابط رکھےاور حالیہ کیمپین میں بھی چند پاکستانی انکی مہم میں متحرک ہیں تاہم امریکی نژاد پاکستانی ووٹروں کی اکثریت زہران ممدانی کو نومبر میں میئر کیلئے ووٹ دینے اور انکی کامیابی کی کے لئے پرجوش نظر آتی ہے ۔

9 months ago

پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلابی ریلوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم سمیت موجودہ ڈیموں کی گنجائش بڑھانا اب قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

لاہور میں وزیراعظم کو حالیہ سیلاب اور متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر منصوبہ بندی چوہدری احسن اقبال، صوبائی و وفاقی وزرا، چیئرمین این ڈی ایم اے، چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سمیت اعلیٰ حکام شریک تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی آفات نے پہلے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کو نشانہ بنایا اور اب پنجاب کے میدانوں میں تباہی پھیلا دی، جس کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لیے دعا مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

شہباز شریف نے اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی انتظامیہ کی قیادت میں جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، پولیس اور دیگر اداروں نے دن رات کام کرکے متاثرین کی مدد کی، جو لائق تحسین ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان اور این ڈی ایم اے کے کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور دیگر سہولتیں فراہم کر کے عوام کو بروقت سہارا دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ اجتماعی ٹیم ورک ہی تھا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصانات کو کم کیا جا سکا۔ انہوں نے 2022 کے بدترین سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سندھ اور بلوچستان کو اربوں ڈالرز کے نقصانات برداشت کرنا پڑے تھے، اور اب ایک بار پھر پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید خطرات کی زد میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست نشانے پر ہیں، اس لیے وفاق اور تمام صوبوں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہی واحد حل ہے جس کے بغیر فلیش فلڈز اور تباہ کاریوں پر قابو پانا ممکن نہیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر آج سے سنجیدہ عملی اقدامات شروع کر دیے جائیں تب بھی اس بڑے مقصد کو حاصل کرنے میں کئی سال لگیں گے، لیکن یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ڈیمز اور ذخائر پر فوری توجہ دی جائے۔

انہوں نے آخر میں دعا کی کہ سندھ کی جانب بڑھنے والے سیلابی ریلوں میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے کمی فرمائے اور عوام کو محفوظ رکھے۔

9 months ago

امریکا میں غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام پر نئی اور سخت پابندیاں عائد

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جو قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس مجوزہ پالیسی کے تحت اب کسی بھی غیر ملکی طالب علم کو اسٹوڈنٹ ویزے پر 4 سال سے زیادہ امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ صحافیوں کے لیے قیام کی مدت 240 دن مقرر کی گئی ہے، جس میں صرف ایک بار مزید 240 دن کی توسیع کی درخواست دی جا سکے گی، جبکہ چینی صحافیوں کو محض 90 دن کا مختصر قیام دیا جائے گا۔
اب تک امریکی پالیسی یہ رہی تھی کہ طلبہ کو اُن کے تعلیمی پروگرام کے اختتام تک اور صحافیوں کو اُن کی اسائنمنٹ مکمل ہونے تک ویزے دیے جاتے رہے۔ لیکن نئی تجاویز کے بعد یہ سہولت محدود کردی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں فیڈرل رجسٹر میں شائع کردی گئی ہیں، جہاں مختصر عوامی مشاورت کے بعد انہیں حتمی شکل دی جائے گی۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا مؤقف ہے کہ بہت سے طلبہ غیر معینہ مدت تک تعلیم کے نام پر امریکہ میں قیام بڑھاتے رہتے ہیں اور “ہمیشہ کے طلبہ” بن جاتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ ضائع ہوتا ہے۔ تاہم محکمہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہا کہ بین الاقوامی طلبہ امریکی عوام کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق صرف 2023 میں ہی غیر ملکی طلبہ نے معیشت میں 50 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ڈالا۔
امریکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ غیر ملکی طلبہ کو خوش آمدید کہتا ہے۔ صرف تعلیمی سال 2023-24 میں 11 لاکھ طلبہ امریکہ پہنچے، جو جامعات کے لیے ایک بڑی آمدنی کا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ طلبہ زیادہ تر مکمل فیس ادا کرتے ہیں۔
امریکی جامعات اور کالجوں کے رہنماؤں نے اس اقدام کو “بے معنی بیوروکریسی” اور تعلیم میں غیر ضروری مداخلت قرار دیا ہے۔ اُن کے مطابق یہ قانون عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو یہ پیغام دیتا ہے کہ امریکہ ان کی صلاحیتوں کی قدر نہیں کرتا، جس سے نہ صرف طلبہ بلکہ امریکی جامعات کی کشش اور عالمی مسابقت بھی متاثر ہوگی۔
پریذیڈنٹس الائنس آن ہائر ایجوکیشن اینڈ امیگریشن کی سی ای او مریم فیلڈبلم نے کہا: “یہ پالیسی امریکہ کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ دنیا کے بہترین دماغوں کو دور دھکیلتی ہے، جو تحقیق اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے تھے۔”
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں اور پہلے ہی بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کو اپنے ہی حامیوں کی تنقید کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب انہوں نے حال ہی میں کہا کہ وہ امریکہ میں چینی طلبہ کی تعداد دگنی کر کے 6 لاکھ تک لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ بیان اُن کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بالکل برعکس تھا، جنہوں نے چینی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 6 ہزار طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوئے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے جامعات کی وفاقی تحقیقی فنڈنگ بھی یہ الزام لگا کر روک دی کہ انہوں نے یہودی مخالف رجحانات کے خلاف اقدامات نہیں کیے۔ اس کے ساتھ کانگریس نے نجی جامعات کی انڈوومنٹس پر ٹیکس بھی بڑھا دیے۔
انتخابات سے قبل اپنے خطاب میں نائب صدر جی ڈی وینس نے جامعات کو قدامت پسندوں کا “اصل دشمن” قرار دیتے ہوئے اُن پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ دیا۔
یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے اپنے پہلے دورِ حکومت کے اختتام پر صحافیوں کے ویزوں کی مدت گھٹانے کی تجویز دی تھی، جسے بعد میں صدر جو بائیڈن نے ختم کر دیا تھا۔

خلاصہ

  • پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کا پیش خیمہ
  • امریکی سینیٹ میں ہائر ایکٹ متعارف، بھارت میں کھلبلی
  • نیویارک کےمیئر ایرک ایڈمز کو سعودی عرب میں سفیر مقرر کیا جا سکتا ہے؟
  • پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف
  • امریکا میں غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام پر نئی اور سخت پابندیاں عائد