خلیجِ عدن میں بحری قزاقی میں اضافہ، عالمی بحری راستوں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی
خلیجِ عدن میں بحری قزاقی میں اضافہ، عالمی بحری راستوں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال نے عالمی بحری راستوں کے توازن کو متاثر کیا ہے، جس کے اثرات اب افریقہ کے ساحلی پانیوں تک پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی بحری نگرانی کے اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی توجہ کے نتیجے میں دیگر حساس سمندری علاقوں، خصوصاً صومالیہ کے ساحلی پانیوں میں نگرانی نسبتاً کمزور ہوئی ہے، جس کے بعد بحری قزاقی کی سرگرمیوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی چیمبر آف کامرس کے کمرشل کرائم سروس یونٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے بعد سے کم از کم چار تصدیق شدہ بحری جہازوں پر قبضے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں سے کچھ میں عملہ اور کارگو اب بھی یرغمال ہیں۔ بحری سلامتی کے ادارے پول اسٹار گلوبل کے مطابق اس سال اب تک 18 مشتبہ واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مجموعی اعداد و شمار سے زیادہ ہیں۔ کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق سمندری قزاق گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور موسمی حالات کے سازگار ہونے کے ساتھ سرگرمیوں میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سمندری سلامتی کے ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آ رہی ہے جب عالمی بحری تجارتی راستے پہلے ہی مختلف جغرافیائی کشیدگیوں اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ امریکی جریدے ٹائم کی تحقیق پر مبنی ہے۔


