کینیڈا کی شہریت کے نئے قوانین پر امریکیوں کی غیر معمولی دلچسپی، ہجرت کے رجحان میں اضافہ
کینیڈا کی شہریت کے نئے قوانین پر امریکیوں کی غیر معمولی دلچسپی، ہجرت کے رجحان میں اضافہ
اوٹاوا — کینیڈا کے شہریت سے متعلق توسیع شدہ قوانین نے ایک غیر معمولی رجحان کو جنم دیا ہے، جہاں بڑی تعداد میں امریکی شہری بھی کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
کینیڈا کے امیگریشن حکام کے مطابق نئے قوانین، جو گزشتہ سال دسمبر سے نافذ ہوئے، اب ایسے افراد کو بھی شہریت کا حق دیتے ہیں جن کے کینیڈین آباؤ اجداد پہلی نسل سے آگے کے ہوں۔ اس تبدیلی کے بعد شہریت کے لیے درخواستوں اور منظوریوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس نئے نظام کے تحت ماہانہ بنیادوں پر شہریت کے کیسز میں ایک ہزار سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ منظور ہونے والے کیسز میں تقریباً نصف امریکی شہری شامل ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس رجحان کے پیچھے صرف امیگریشن پالیسی نہیں بلکہ امریکا میں سیاسی تقسیم، سماجی بے چینی اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال بھی اہم عوامل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب کسی ملک کے شہری زیادہ بہتر مواقع، سیاسی استحکام اور سماجی تحفظ کے لیے دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا شروع کر دیں تو یہ رجحان صرف ہجرت نہیں ہوتا بلکہ اندرونی اعتماد کے بحران کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی اور تجارتی سطح پر کشیدگی کے اشارے بھی دیکھے گئے ہیں، جس نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر سوچ اور ترجیحات کو مزید متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس وسیع تر عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک کے شہری بھی متبادل شناخت، بہتر معیارِ زندگی اور زیادہ مستحکم سیاسی ماحول کی تلاش میں دوسرے ملکوں کا رخ کر رہے ہیں


