Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہاسٹیٹس دوسو بلین ڈالر:کھاناکچی گلی میں دو ڈالر کا نوڈل

ٹرینڈنگ

اسٹیٹس دوسو بلین ڈالر:کھاناکچی گلی میں دو ڈالر کا نوڈل

یہ صرف ایک “نوڈلز کھانے” کی کہانی نہیں تھی — یہ دراصل جدید دنیا کی سب سے بڑی ٹیک جنگ کے بیچ ایک خاموش سفارتی اشارہ تھا۔
جینسن ہوانگ، جو تائیوان میں پیدا ہوئے اور بعد میں امریکہ آ کر دنیا کی سب سے طاقتور اے آئی کمپنی این ویڈیا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بنے، آج تقریباً 184 ارب ڈالر کی دولت کے مالک سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی کمپنی اس وقت دنیا کی سب سے اہم اے آئی چِپ ساز کمپنی ہے، جس کے گرافکس پروسیسرز تقریباً ہر بڑے اے آئی سسٹم — چاہے وہ چیٹ جی پی ٹی ہو، اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ، ایمیزون یا ٹیسلا — سب میں استعمال ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جینسن ہوانگ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین دورے کے وفد میں شامل ہی نہیں کیا گیا تھا۔ پھر میڈیا میں یہ بات پھیلی کہ دنیا کی سب سے اہم اے آئی کمپنی کا سربراہ اس دورے میں موجود نہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے خود انہیں فون کیا، اور ایئر فورس ون نے الاسکا میں ایندھن بھرنے کے دوران انہیں ساتھ لیا۔
صرف 72 گھنٹے بعد، جینسن ہوانگ پورے چینی سوشل میڈیا پر چھا گئے۔
وجہ؟
بیجنگ کی ایک تنگ سی گلی، ایک سستا سا نوڈلز شاپ، اور تقریباً تین ڈالر کا “ژا جیانگ میئن” — روایتی چینی نوڈلز۔ دنیا کی سب سے قیمتی ٹیک کمپنی کا سربراہ سیکیورٹی پروٹوکول اور شاہانہ دعوتوں کو چھوڑ کر عام لوگوں کے درمیان کھڑا نوڈلز کھا رہا تھا۔ ویڈیوز وائرل ہو گئیں، لاکھوں ویوز آئے، اور چینی عوام نے اسے حیرت انگیز طور پر مثبت انداز میں لیا۔
اصل کہانی مگر اس سے کہیں بڑی ہے۔
امریکہ نے چین پر جدید اے آئی چپس کی پابندیاں لگا رکھی ہیں، اور این ویڈیا اپنی جدید ترین چپس چین کو آزادانہ فروخت نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جینسن ہوانگ مہینوں سے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چین کی مارکیٹ این ویڈیا کے لیے “اربوں ڈالر” کی اہمیت رکھتی ہے۔
اسی لیے وہ نوڈلز صرف نوڈلز نہیں تھے۔
وہ ایک پیغام تھا:
“ہم اب بھی چین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔”
چین میں لوگوں نے اسے ایک ارب پتی چیف ایگزیکٹو آفیسر کے بجائے ایک نرم مزاج، زمین سے جڑا ہوا انسان دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایلون مسک، ٹِم کُک اور دوسرے بڑے ناموں کے باوجود سب سے زیادہ گفتگو جینسن ہوانگ کے بارے میں ہوئی۔
این ویڈیا کی کہانی بھی غیرمعمولی ہے۔ یہ کمپنی 1993 میں ایک معمولی ڈائنر — ڈینیز ریسٹورنٹ — میں شروع ہوئی تھی۔ اُس وقت کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ویڈیو گیمز کے لیے بننے والے گرافکس پروسیسرز ایک دن پوری دنیا کی اے آئی معیشت کی بنیاد بن جائیں گے۔ آج این ویڈیا کی مارکیٹ ویلیو کئی ممالک کی معیشت سے بڑی سمجھی جاتی ہے، اور جینسن ہوانگ کو سلیکون ویلی کا سب سے طاقتور انسان کہا جاتا ہے۔
اور شاید تاریخ واقعی یہ لکھے کہ:
بیجنگ کی ایک گلی میں کھایا گیا تین ڈالر کا نوڈلز، کارپوریٹ دنیا کی تاریخ کا سب سے منافع بخش کھانا ثابت ہوا۔

مزید پڑھیں