یوکرین کے طویل فاصلے کے میزائل اور ڈرون حملے، روس کے اندر گہرے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
یوکرین کے طویل فاصلے کے میزائل اور ڈرون حملے، روس کے اندر گہرے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
کیف: یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے ذریعے روس کے اندر گہرائی میں متعدد اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں فوجی صنعت اور تیل کی تنصیبات شامل ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق یوکرینی فورسز نے لمبی دوری کے “فلمنگو” میزائلوں کے ذریعے چیبوکسری کے علاقے میں ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنایا جو ڈرون اور میزائلوں کے لیے پرزے تیار کرتی ہے۔ یہ مقام محاذ جنگ سے نو سو کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع بتایا جاتا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں واقع ایک صنعتی پلانٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ کچھ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تنصیب ڈرونز کے لیے اینٹینا تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
اسی دوران یوکرین نے روس کے سمارا علاقے میں ایک آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا، جہاں حکام نے صنعتی تنصیبات کو نقصان اور کم از کم تین افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد ریفائنری میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور تیل کی پروسیسنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
علاقائی حکام نے بھی ڈرون حملوں کے نتیجے میں نقصان کی تصدیق کی ہے، جبکہ آزاد ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تنصیب روس کی بڑی تیل کمپنی کی ایک اہم ریفائنری سے منسلک ہے جو حملے کے بعد بند ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ اب محاذ سے آگے بڑھ کر روس کے اندرونی صنعتی اور توانائی ڈھانچے تک پہنچ چکی ہے، جس سے نہ صرف جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہوتی جا رہی ہ


