تیل کی عالمی سیاست میں تاریخی انقلاب، امریکہ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا
تیل کی عالمی سیاست میں تاریخی انقلاب، امریکہ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا
واشنگٹن: عالمی توانائی کے نظام میں ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں امریکہ نے دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے، جس نے دہائیوں پر محیط سعودی عرب اور روس کی برتری کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، روس پر پابندیاں اور جغرافیائی سیاسی تنازعات نے روایتی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اسی دوران امریکی نجی توانائی کمپنیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداوار نے امریکہ کو عالمی توانائی برآمدات کے سب سے بڑے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف معاشی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کی بھی ہے، کیونکہ اس سے امریکہ کو عالمی توانائی منڈیوں میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کے بعض حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی توانائی پر بڑھتا ہوا انحصار مستقبل میں ایک نئی قسم کی جغرافیائی سیاسی کمزوری پیدا کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی اس وقت آئی ہے جب امریکہ ماضی میں خود توانائی کے لیے بیرونی ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتا تھا اور انیس سو تہتر کے تیل بحران کے دوران اسے شدید معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔
اب صورتحال الٹ چکی ہے، اور امریکہ نہ صرف اپنی توانائی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں سب سے بڑا برآمد کنندہ بن کر ابھرا ہے، جس نے عالمی توانائی نظام کے پرانے توازن کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت آنے والے برسوں میں تیل کی قیمتوں، عالمی اتحادوں اور توانائی کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا


