Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانکچے میں لڑکی کے اغوا اور بازیابی کا معمہ، عوامی دباؤ کے...

ٹرینڈنگ

کچے میں لڑکی کے اغوا اور بازیابی کا معمہ، عوامی دباؤ کے بعد کارروائی نے نئے سوال کھڑے کر دیے

بلوچستان کے پشتون قبائل سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی کے مبینہ اغوا اور بعد ازاں بازیابی کے واقعے نے ایک بار پھر سندھ کے کچے کے علاقے میں جرائم اور ریاستی عملداری پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لڑکی کو مبینہ طور پر کچے کے علاقے سے اغوا کیا گیا، جو بلوچستان سے جغرافیائی طور پر دور ہونے کے باعث اس واقعے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ مقامی سطح پر اس بات پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنے حساس اور متنازع علاقے میں اس نوعیت کا اغوا کیسے ممکن ہوا۔ واقعے کے بعد جب مقامی قبائل نے بڑی تعداد میں متاثرہ علاقے کی طرف پیش قدمی کی تو انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کی بازیابی کا دعویٰ کیا۔ اسی وقت مختلف حلقوں میں یہ بحث بھی شروع ہو گئی کہ آیا یہ کارروائی پہلے سے جاری تھی یا قبائلی دباؤ کے نتیجے میں تیز ہوئی۔ علاقائی سطح پر یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں عوامی دباؤ یا ہجوم کی آمد کے بعد ہی مغوی افراد کی بازیابی ممکن ہو سکی، جبکہ اس سے پہلے تاوان یا طویل مذاکرات کی صورتحال بنتی رہی ہے۔ کچھ مبصرین اس پورے نظام کو ریاستی عملداری کے چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ گروہوں کی موجودگی اور ان کے خلاف کارروائیوں کی نوعیت آخر بار بار کیوں متنازع بنتی ہے۔ ادھر سرکاری سطح پر اس واقعے اور اس کے پس منظر پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ ایک بار پھر سندھ کے کچے کے علاقے میں امن و امان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بحث کا مرکز بن گیا ہے

مزید پڑھیں