سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق سنگین الزامات، متنازع مہم اور ریاستی اداروں کی خاموشی پر سوالات
سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق سنگین الزامات، متنازع مہم اور ریاستی اداروں کی خاموشی پر سوالات
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) — پاکستان کے بعض سوشل میڈیا حلقوں میں ایک مرتبہ پھر ریاستی اداروں، بالخصوص فوج کے خلاف سنگین نوعیت کے غیر مصدقہ الزامات پر مبنی مہم زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر کچھ صارفین اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نژاد یوٹیوبرز کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آ رہے ہیں جن میں فوجی افسران کے بارے میں انتہائی حساس اور سنگین نوعیت کے الزامات شامل ہیں۔
یہ دعوے مختلف مبینہ واقعات اور نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کیے جا رہے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ اور مستند تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ ناقدین کے مطابق ان بیانات میں بعض اوقات جونیئر افسران اور اعلیٰ کمانڈ کے درمیان تعلقات سے متعلق بھی ایسے الزامات شامل کیے جا رہے ہیں جنہیں کئی حلقے “افواہ سازی اور سنسنی خیزی” قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینلز ان دعوؤں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ عوامی سطح پر شدید تقسیم اور بداعتمادی کی فضا بھی پیدا ہو رہی ہے۔
سماجی و سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، تاہم بغیر تصدیق شدہ اور حساس نوعیت کے الزامات کو پھیلانا نہ صرف معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتا ہے بلکہ یہ ریاستی اداروں اور قومی سلامتی کے بیانیے کو بھی متاثر کرتا ہے۔
دوسری طرف یہ سوال بھی شدت اختیار کر رہا ہے کہ ایسے متنازع اور حساس دعووں کے پھیلاؤ کے باوجود متعلقہ ریاستی ادارے یا قانونی میکانزم اس نوعیت کی مہمات کے تدارک میں واضح اور مؤثر کردار کیوں ادا نہیں کر رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک طرف غلط معلومات اور منظم پراپیگنڈا کے پھیلاؤ کو روکا جائے، جبکہ دوسری طرف تمام فریقین کے لیے شفاف، قانونی اور غیر جانبدار احتسابی عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ نہ صرف اداروں پر اعتماد بحال ہو بلکہ معاشرتی پولرائزیشن میں بھی کمی آئے


