کواڈ اتحاد پر چین کا سخت ردعمل، “خطے کو بلاک سیاست اور محاذ آرائی کی طرف نہ دھکیلا جائے”
کواڈ اتحاد پر چین کا سخت ردعمل، “خطے کو بلاک سیاست اور محاذ آرائی کی طرف نہ دھکیلا جائے”
چین نے امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل “کواڈ” اتحاد کی سرگرمیوں پر ایک بار پھر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں تعاون کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ممالک کے درمیان تعاون کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی ہونا چاہیے، نہ کہ نئے گروپ بنا کر محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دینا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “چین خصوصی بلاکس اور گروہی سیاست کی حمایت نہیں کرتا۔”
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کئی اہم معاہدے طے پائے۔ کواڈ ممالک نے بحرالکاہل کے جزیرہ ملک فجی میں مشترکہ بندرگاہ تعمیر کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ اہم معدنیات اور توانائی کے تحفظ سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چین کواڈ کو خطے میں اپنے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے خلاف ایک اسٹریٹیجک اتحاد سمجھتا ہے، اگرچہ کواڈ ممالک بارہا یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ ان کا اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ “آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک” کے لیے ہے۔
بیجنگ کے حالیہ بیان کو خطے میں بڑھتی سفارتی کشیدگی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنوبی بحیرۂ چین، تائیوان اور بحرالکاہل میں طاقت کے توازن پر عالمی مقابلہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

