نواز شریف نے گلگلت بلتستان میں مجھے کیوں نکالا کا رونا پھر رویا
نواز شریف نے گلگلت بلتستان میں مجھے کیوں نکالا کا رونا پھر رویا
مگر یہ نہیں بتایا جنہوں نے نکالا انہوں نے ہی متعارف بھی کیا بلایا بھی
گلگت (نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا،میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں، یہاں کہا جا رہا ہے کہ ہمیں این ایف سی سے حصہ ملنا چاہیے، ہم نے اس سلسلے میں 2017 میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کے بعد ہمیں نکال دیا گیا، اس وقت کمیٹی نے سفارشات مرتب کیں تھیں جنہیں ہم نے عملی جامہ پہنانا تھا، اس کا مطلب یہ کام اسوقت ہوگیا ہوتا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ان خیالات کا اظہارا نہوں نے یہاں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نوازشریف نے کہا کہ چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائے، اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا، طلبہ کو اسکالرشپس دی جائیں گی۔
میاں محمد نواز شریف نے گلگت میں سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر گلہ کیا ہے مجھے کیوں نکالا ؟ انہیوں نے کہا ہے کہا جارہا ہے این ایف سی ایوارڈ سے حصہ ملنا چاہیئے ، ہم نے اس سلسلے میں دو ہزار سترہ میں کمیٹی بنای تھی مگر پھر مجھے نکال دیا گیا ، گلگلت بلتستان سی پیک اور خطے کی ٹورزم کا ہب ہے یہاں کی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے ، میاں نواز شریف نے کہا ہے مجھے نکالنے پر آپ لوگ بھی چپ رہے مگر اس کے باوجود آپ کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا چاہے آپ مسلم لیگ کو ووٹ دیں نہ دیں ، ہم دوسروں پر الزام تراشی کرکے ووٹ نہیں مانگتے اپنی کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں ، تاہم ملک کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو میاں نواز شریف کی سیاست میں انٹری کے ساتھ ملی جنہوں نے سب سے پہلے جہاں جاگ پنجابی جاگ پر مبنی تعصبی نعرے سے سیاست کا آغاز کیا بلکہ وہ ضیاءالحق جیسے ڈکٹیٹر کے کندھوں پر بیٹھ کے آئے ، پھر بےنظیر بھٹو کے خلاف آی جے آی کی سازشی مہم کے ذریعے انتخابات چھینے اور وزیراعظم بنے جبکہ میاں خاندان نے ہی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرتے ہوئے اور اس سے ناراضگی پر معافی معاہدے کی روایت قائم کی ، اور ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنگوں کرنے پر مجبور کیا، تجزیہ نگار کہتے ہیں نواز شریف کا بار بار یہ پوچھنا اب لطیفہ بن چکا ہے مجھے کیوں نکالا، تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے، پاکستان جس نظریے پر قائم ہوا ہے اس میں کسی کو نکالا کسی کو ڈالا کی سیاست ہی اصل سیاست ہے کیونکہ یہ ملک جمہوریت عوامی ترقی خوشحالی امن سلامتی کی فکر کے ساتھ نہیں بلکہ عالمی پولیسنگ کے نظریے کے تابع بنایا گیا ہے اور یہاں انہی کی حکومت قائم رہے گی جو بین الاقوامی ضروریات پوری کرتے ہیں


