Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگپچاس سال بعد واپسی: شیخ رشید دوبارہ عدالت میں،ملزم نہیں بطور وکیل،قانون...

ٹرینڈنگ

پچاس سال بعد واپسی: شیخ رشید دوبارہ عدالت میں،ملزم نہیں بطور وکیل،قانون بدلا، وکیل پرانا رہ گیا یا نیا کھیل شروع ہونے والا ہے؟

پچاس سال بعد واپسی: شیخ رشید دوبارہ عدالت میں،ملزم نہیں بطور وکیل،قانون بدلا، وکیل پرانا رہ گیا یا نیا کھیل شروع ہونے والا ہے؟

رپورٹ آفاق فاروقی

راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سابق وزیر داخلہ اور سینئر سیاسی شخصیت شیخ رشید احمد کو نصف صدی بعد شعبۂ وکالت میں واپسی پر لائف ٹائم ممبرشپ دینے کا فیصلہ بظاہر ایک رسمی اعزاز ہے، جس کے بعد کہا جارہا ہے شیخ رشید عمران خان اور بشرای بی بی کے مقدمات لڑیں گے ، مگر اس سب سے بھی پہلے ایک بڑا سوال سر اٹھا رہا ہے: کیا 50 سال بعد قانون کی دنیا میں واپس آنے والا شخص دوبارہ “اچھا وکیل” بن سکتا ہے؟
یہ سوال صرف شیخ رشید تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے پیشہ ورانہ نظام، انسانی یادداشت، اور مہارت کی فطرت پر ایک گہرا فلسفیانہ مکالمہ کھول دیتا ہے
جدید نفسیات کہتی ہے کہ انسانی مہارت “use it or lose it” کے اصول پر چلتی ہے۔ یعنی جو علم مسلسل استعمال نہ ہو وہ آہستہ آہستہ ذہن سے مٹ جاتا ہے۔ قانون جیسے شعبے میں، جہاں ہر سال نئے قوانین، عدالتی نظائر اور آئینی تشریحات جنم لیتی ہیں، وہاں 50 سال کا وقفہ کسی ایک صدی کے وقفے سے کم نہیں سمجھا جاتا
اگر کوئی وکیل 1970 کی دہائی میں قانون پڑھ کر دو چار سال پریکٹس کرے اور پھر غائب ہو جائے، تو آج کے ڈیجیٹل، آئینی اور سپریم کورٹ کے بدلتے ہوئے قانونی نظام میں اس کی کیفیت وہی ہو سکتی ہے جو کسی پرانے ریڈیو کی ہو، جسے جدید وائی فائی دور میں صرف یادوں کے لیے رکھا گیا ہو
ارسطو کہتا تھا کہ “ہم وہی ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں”۔ اس کے نزدیک مہارت محض علم نہیں بلکہ عادت ہے،اگر عادت ٹوٹ جائے تو شناخت بھی دھندلا جاتی ہے
اسی طرح مونٹیسکیو کے مطابق قانون ایک “زندہ نظام” ہے جو وقت کے ساتھ ارتقا پذیر رہتا ہے،اس اصول کے تحت، 50 سال بعد واپس آنے والا وکیل صرف پرانے قوانین کا حافظ نہیں رہتا بلکہ ایک نئے نظام میں اجنبی مسافر بن جاتا ہے
سیسرؤ (Cicero) نے وکالت کو “زبان اور منطق کا سب سے اعلیٰ استعمال” کہا تھا، مگر وہ بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ منطق تبھی مؤثر ہے جب وہ عصری حقیقت سے جڑی ہو
کیا نصف صدی بعد واپسی ممکن ہے؟
اگر سوال کو سادہ کیا جائے تو جواب دو حصوں میں بٹ جاتا ہے
ایک طرف تجربہ ہے،50 سال پہلے قانون پڑھنا، عدالتی ماحول کو دیکھنا اور مختصر پریکٹس کرنا ایک ذہنی بنیاد ضرور دیتا ہے
لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ قانون آج صرف دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ آئینی تشریحات، ڈیجیٹل شواہد، اور پیچیدہ عدالتی نظائر کا جال ہے
یوں سمجھ لیجیے کہ پرانی موٹر سائیکل چلانے والا شخص اگر 50 سال بعد فی الفور جدید جیٹ طیارہ اڑانے لگے تو نتیجہ صرف دو ہی ہو سکتا ہے،یا حیرت یا حادثہ
سیاسی اور عدالتی حلقوں میں یہ بات دلچسپی سے دیکھی جا رہی ہے کہ اگر واقعی وہ دوبارہ عملی وکالت کی طرف آتے ہیں تو کیا وہ اپنے سیاسی انداز میں دلائل دیں گے یا قانونی نکات میں بھی وہی روایتی “پاور پالیٹکس” نظر آئے گی
کچھ ناقدین کے مطابق یہ صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی شخص 50 سال بعد کہے کہ “میں موبائل فون ٹھیک کرنا جانتا ہوں”، اور پھر نیکی نیتی سے اسمارٹ فون کھول کر اس میں سے ریڈیو نکالنے لگے
اصل بحث یہ ہے کہ وکیل بننے کے لیے صرف ڈگری کافی ہے یا مسلسل اپڈیٹ رہنا ضروری ہے؟
جدید قانونی فلسفہ واضح کہتا ہے کہ وکیل وہ نہیں جو صرف قانون جانتا ہو، بلکہ وہ ہے جو قانون کے “آج” کو سمجھتا ہو
50 سال بعد واپسی کو مکمل طور پر ناممکن نہیں کہا جا سکتا، مگر اسے ایک “ری لانچ” کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا، نہ کہ مکمل پروفیشنل ری انٹری کے طور پر
کیونکہ قانون کی دنیا میں وقت صرف گزر نہیں جاتا،وہ ہر روز نئے دلائل، نئے فیصلے اور نئی حقیقتیں لکھتا رہتا ہے
اور شاید یہی سب سے بڑا سبق ہے:
کبھی کبھی انسان قانون نہیں بھولتا، مگر قانون انسان کو آگے چھوڑ جاتا ہے

مزید پڑھیں