پینٹاگون میں تاریخی پیش رفت: اسرائیل اور لبنان کے فوجی وفود براہِ راست مذاکرات پر آمادہ
پینٹاگون میں تاریخی پیش رفت: اسرائیل اور لبنان کے فوجی وفود براہِ راست مذاکرات پر آمادہ
واشنگٹن: امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون میں ایک غیر معمولی اور تاریخی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل اور لبنان کے فوجی وفود نے پہلی بار براہِ راست مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔
یہ مذاکرات امریکہ کی ثالثی میں شروع کیے گئے ایک نئے سکیورٹی رابطہ فریم ورک کا حصہ ہیں، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی کو کم کرنا اور اس نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے جو حالیہ مہینوں میں طے پائی تھی۔
امریکی حکام کے مطابق ان مذاکرات کا بنیادی ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرحدی علاقوں میں دوبارہ بڑی سطح کی عسکری جھڑپیں نہ ہوں، اور خطے میں کسی نئے تصادم کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمل ایک ایسے وقت میں شروع کیا گیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تناؤ برقرار ہے اور کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے بحران میں بدلنے کا خدشہ موجود ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے مؤقف اختیار کیا کہ پائیدار امن کا واحد راستہ دونوں خودمختار ریاستوں کے درمیان براہِ راست بات چیت ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نئے رابطہ عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو یہ نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ سرحدی علاقوں میں سرگرم مسلح گروہوں اور کشیدگی کے خدشات مسلسل موجود ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی وفود ایک ہی میز پر امریکی نگرانی میں بیٹھے ہیں، جسے بعض مبصرین ایک محتاط مگر اہم سفارتی آغاز قرار دے رہے ہیں


