پاپ لیو XIV کا انتباہ: مصنوعی ذہانت پر سخت عالمی قوانین کی ضرورت، خودکار ہتھیاروں پر تنقید
ویٹی کن سٹی میں پوپ لیو XIV نے مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر عالمی سطح پر سخت ضابطہ کاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو منافع کے بجائے انسانیت کے اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اپنے پہلے باضابطہ انسائیکلیکل “Magnifica Humanitas” میں، جو ان کی انتخاب کے بعد سے انتہائی متوقع تھا، پوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر شعبے—روزگار سے لے کر جنگ تک—پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اس کے لیے واضح اخلاقی حدود ضروری ہیں۔ انہوں نے “طاقت کی ثقافت” کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کرتی ہوئی AI خاص طور پر ریموٹ وارفیئر اور خودکار ہتھیاروں کے نظام میں تشویشناک شکل اختیار کر رہی ہے۔ پوپ لیو XIV نے واضح کیا کہ ایسے نظاموں کے حوالے سے فیصلہ سازی کو مشینوں کے سپرد کرنا “ناقابل قبول” ہے جہاں انسانی جانوں سے متعلق حتمی اور مہلک فیصلے شامل ہوں۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ریگولیشن کم کرنے کی پالیسیوں پر بھی بحث جاری ہے، جس سے ویٹی کن اور واشنگٹن کے درمیان ایک نئی فکری کشیدگی کا امکان پیدا ہو گیا ہے


