Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہٹرمپ کی گرفت سے باہر ہوتی جنگ: ایران، اسرائیل اور حزب اللہ...

ٹرینڈنگ

ٹرمپ کی گرفت سے باہر ہوتی جنگ: ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے تصادم میں امریکہ کا بڑھتا ہوا بے بس کردار

ٹرمپ کی گرفت سے باہر ہوتی جنگ: ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے تصادم میں امریکہ کا بڑھتا ہوا بے بس کردار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں صورتحال امریکی کنٹرول سے تیزی سے باہر ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ اگرچہ مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ امن عمل کو اپنی نگرانی میں رکھے ہوئے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس سمت میں جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں اب تک کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں، اور خطے میں مختلف فریق اپنے اپنے مقاصد کے مطابق کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران، اسرائیل اور لبنان میں سرگرم حزب اللہ کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے خطرے میں دھکیل دیا ہے۔

حالیہ واقعات میں اس وقت شدت آئی جب اسرائیل کی جانب سے بیروت میں حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی۔ اگرچہ زیادہ تر میزائل دفاعی نظام کے ذریعے روک لیے گئے، لیکن اس کے باوجود خطے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ جنگ کے اصل رخ کو کنٹرول کرنے کے بجائے صرف ردعمل دینے تک محدود نظر آتے ہیں۔ ان کی جانب سے امن معاہدے کی ناکام کوششوں کے بعد اب یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ وہ خود اس بحران کے “مسافر” بن چکے ہیں جبکہ اصل فیصلے زمینی فریقین کر رہے ہیں۔

مزید یہ کہ تجزیہ کاروں کے مطابق جب ایک عالمی طاقت اپنے بیانیے اور عملی حقیقت کے درمیان فرق کو کم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس سے نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ تنازع مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اسی تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تصادم کسی واضح اختتام کی طرف بڑھنے کے بجائے مزید پھیلنے کے امکانات رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے ہوں گے

مزید پڑھیں