Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںدنیا کا پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے، نیا نظام جنم لے رہا...

ٹرینڈنگ

دنیا کا پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے، نیا نظام جنم لے رہا ہے: اگلے عشرے میں عالمی طاقتوں کا نقشہ مکمل طور پر بدلنے کی پیشگوئی

دنیا کا پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے، نیا نظام جنم لے رہا ہے: اگلے عشرے میں عالمی طاقتوں کا نقشہ مکمل طور پر بدلنے کی پیشگوئی

عالمی امور کے ماہر اور پالیسی تجزیہ کار کے مطابق دنیا ایک ایسے تاریخی موڑ میں داخل ہو چکی ہے جہاں وہ عالمی نظام جسے دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے تعمیر کیا تھا، تیزی سے اپنی عمر پوری کر رہا ہے اور ایک نیا عالمی ڈھانچہ ابھرنے کی جدوجہد میں ہے۔ اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگلے دس برسوں میں دنیا سیاسی، معاشی اور عسکری اعتبار سے اس قدر بدل جائے گی کہ موجودہ طاقت کا توازن برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

تجزیہ کار کے مطابق پرانا عالمی نظام وہ تھا جس نے سرد جنگ کے بعد امریکی قیادت میں دنیا کے بڑے حصے کو ایک مربوط اقتصادی اور سیاسی ڈھانچے میں جوڑا، جس کے نتیجے میں نسبتاً استحکام، معاشی ترقی اور عالمی تجارت میں وسعت پیدا ہوئی۔ تاہم اب یہی نظام اپنی حدوں کو پہنچ چکا ہے اور اس کے اندر موجود تضادات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

فکر و تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کی نئی حقیقتیں—جیسے ابھرتی ہوئی بڑی طاقتوں کا مقابلہ، علاقائی تنازعات کا بڑھنا، معاشی قوم پرستی، اور عالمی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی حیثیت—اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جس کی شکل ابھی واضح نہیں۔

تجزیہ کار نے اس صورتحال کو تاریخی فلسفی انتونیو گرامشی کے اس قول سے جوڑا ہے کہ پرانا نظام مرتا ہے اور نیا نظام ابھی مکمل طور پر پیدا نہیں ہوا ہوتا، اور اسی وقفے میں دنیا غیر یقینی اور کشمکش کا شکار رہتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال بھی اسی عبوری مرحلے کی عکاسی کرتی ہے جہاں پرانے اصول ٹوٹ رہے ہیں لیکن نئے اصول ابھی مستحکم نہیں ہوئے۔

مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں عالمی قیادت کے روایتی مراکز بھی دباؤ کا شکار ہیں اور طاقت کا ارتکاز مختلف خطوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں آنے والا وقت زیادہ غیر مستحکم، زیادہ مسابقتی اور زیادہ غیر متوقع ہو سکتا ہے۔

تجزیے کے اختتام پر یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اس تبدیلی کو سمجھ کر نئے توازن قائم کرنے میں کامیاب نہ ہوئیں تو آنے والا عشرہ عالمی نظام کے لیے فیصلہ کن اور ممکنہ طور پر انتشار سے بھرپور ثابت ہو سکتا ہے

مزید پڑھیں