ٹرمپ کی سیاسی صف بندی کا ہنگامہ: ریپبلکن جماعت کی اندرونی تطہیر کی کامیابی یا مستقبل کی انتخابی شکست کا آغاز
ٹرمپ کی سیاسی صف بندی کا ہنگامہ: ریپبلکن جماعت کی اندرونی تطہیر کی کامیابی یا مستقبل کی انتخابی شکست کا آغاز
امریکی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی جماعت کے اندر ایک غیر معمولی اور سخت سیاسی صف بندی کے عمل سے گزر رہے ہیں جس میں وہ پارٹی کے اندر اختلاف رکھنے والے عناصر کو تیزی سے کمزور یا باہر کر رہے ہیں۔ اس عمل کو بعض مؤرخین ماضی کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی کوششوں سے تقابل دیتے ہیں، تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دور میں ایسی مکمل پارٹی گرفت حاصل نہ کر سکے جیسی آج ٹرمپ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ اپنی جماعت پر گرفت مضبوط کر رہے ہیں، لیکن ان کی مجموعی سیاسی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف طبقوں خصوصاً لاطینی ووٹرز میں ان کی حمایت کمزور ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی مہنگائی، روزگار کے تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے باعث متوسط طبقے کی ملازمتوں پر پڑنے والے اثرات جیسے مسائل کو ان کی حکومت ترجیح نہیں دے سکی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ریپبلکن جماعت کو آنے والے وسط مدتی انتخابات میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور کانگریس پر کنٹرول برقرار رکھنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر کی پالیسیوں کے اثرات پارٹی کے انتخابی امکانات کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔
اسی دوران یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ ریاستوں میں حلقہ بندیوں میں تبدیلیاں، ووٹنگ کے قوانین میں سختی اور بعض شہروں میں وفاقی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی جیسے اقدامات سیاسی ماحول کو مزید متنازع بنا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ریپبلکن جماعت کی اندرونی یکجہتی وقتی طور پر مضبوط ضرور ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہی سخت گیر حکمت عملی اس کی انتخابی بنیاد کو کمزور کر سکتی ہے اور امریکی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے


