واشنگٹن اور بیجنگ کی نئی سرد جنگ: لاطینی امریکہ میں اثر و رسوخ کی کشمکش اور امریکہ کے لیے اسٹریٹجک چیلنج
واشنگٹن اور بیجنگ کی نئی سرد جنگ: لاطینی امریکہ میں اثر و رسوخ کی کشمکش اور امریکہ کے لیے اسٹریٹجک چیلنج
لاطینی امریکہ اور کیریبین خطہ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی مسابقت کا مرکز بنتا جا رہا ہے جہاں امریکہ اور چین کے درمیان اثر و رسوخ کی کشمکش نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ایک امریکی ماہرِ پالیسی کے مطابق واشنگٹن کے لیے اب یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اس خطے سے مکمل طور پر باہر کر دے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ خطے کے ممالک کو بہتر، زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد متبادل حکمتِ عملی فراہم کرے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ دو صدی قبل امریکی صدر جیمز منرو نے مغربی نصف کرے میں یورپی مداخلت کے خلاف جو پالیسی پیش کی تھی، وہ اُس دور کی جغرافیائی سیاست کے مطابق تھی، مگر اکیسویں صدی میں صورتحال مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ آج چین براہِ راست فوجی یا نوآبادیاتی قبضے کے بجائے اقتصادی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تجارتی روابط کے ذریعے اس خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔
پیرو کے ایک اہم بندرگاہی منصوبے کی مثال دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین خطے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے جس سے نہ صرف مقامی معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بھی تیز ہو رہا ہے۔ اس بندرگاہ کو اس وسیع تر حکمتِ عملی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے بیجنگ ترقی پذیر ممالک میں اپنی معاشی گرفت بڑھا رہا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق واشنگٹن کی پالیسی اب محض روکنے یا باہر رکھنے کی حکمتِ عملی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اس کے بجائے امریکہ کو ایسے متبادل پیش کرنا ہوں گے جو خطے کے ممالک کے لیے زیادہ فائدہ مند، پائیدار اور ترقیاتی اعتبار سے مضبوط ہوں، ورنہ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ مزید گہرا ہوتا جائے گا۔
موجودہ صورتحال میں یہ مقابلہ محض سفارتی یا معاشی نہیں رہا بلکہ اس کا دائرہ ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور عالمی اثر و رسوخ کی نئی تعریف تک پھیل چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکہ نے اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی نہ کی تو لاطینی امریکہ میں طاقت کا توازن مستقل طور پر تبدیل ہو سکتا ہے اور چین ایک فیصلہ کن اقتصادی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے


