صومالیہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، حکومتی نظام کے انہدام کے خدشات بڑھ گئے
صومالیہ میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، حکومتی نظام کے انہدام کے خدشات بڑھ گئے
موغادیشو: صومالیہ میں حکومتی نظام ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جہاں حالیہ مسلح جھڑپوں اور سیاسی اختلافات کے بعد ملک کے سیاسی ڈھانچے کے مستقبل پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والی جھڑپوں نے پہلے سے موجود سیاسی تعطل کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور مختلف فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔ دارالحکومت موغادیشو سمیت کئی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال غیر یقینی بتائی جا رہی ہے، جہاں سرکاری فورسز کی گشت اور مقامی آبادی کی نقل و حرکت میں بھی تناؤ دیکھا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صومالیہ کا موجودہ بحران محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا آئینی اور ادارہ جاتی بحران ہے، جس میں مرکزی حکومت کی رٹ مسلسل کمزور ہو رہی ہے اور مختلف سیاسی دھڑے طاقت کے لیے مسابقت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ سیاسی تعطل برقرار رہا تو ملک کے اندر حکومتی ڈھانچے کے مزید کمزور ہونے اور طویل عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات خطے کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق صومالیہ پہلے ہی طویل عرصے سے کمزور ریاستی اداروں اور داخلی تنازعات کا شکار رہا ہے، اور حالیہ پیش رفت اس خدشے کو تقویت دے رہی ہے کہ سیاسی نظام ایک نئے اور زیادہ شدید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اس صورتحال نے عالمی برادری کے لیے بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جو صومالیہ میں استحکام اور امن کی کوششوں کو ایک بار پھر متاثر ہوتے دیکھ رہی ہے


