موغادیشو کی گلیوں میں خون، سیاسی نظام دہانے پر، صومالیہ میں اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کے سائے گہرے کر دیے
موغادیشو کی گلیوں میں خون، سیاسی نظام دہانے پر، صومالیہ میں اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کے سائے گہرے کر دیے
صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں وفاقی سرکاری فوجوں اور اپوزیشن سے وابستہ مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھڑک اٹھیں جنہوں نے ملک کو ایک بار پھر عدم استحکام کے خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ جھڑپیں تین جون کو اس وقت شروع ہوئیں جب ملک میں پہلے سے جاری سیاسی بحران اچانک سڑکوں پر تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔
حکام کے مطابق ان تازہ لڑائیوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ پچپن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ تصادم اس ماحول میں ہوا جب چار جون کو حکومت مخالف بڑے احتجاج کی کال دی گئی تھی، تاہم یہ احتجاج بعد میں منعقد نہ ہو سکا۔
بحران کی بنیادی وجہ انتخابات میں مسلسل تاخیر اور صدر حسن شیخ محمود کی مدتِ صدارت میں ایک سال کی متنازع توسیع ہے جس پر ملک بھر میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ توسیع پندرہ مئی کو ختم ہونے والی مدت کے بعد سامنے آئی جس نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔
مقامی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ صورت حال کو قبائلی عمائدین کی ثالثی کے ذریعے قابو میں لایا گیا۔ صومالی معاشرے میں قبائلی ڈھانچہ گہرا اثر رکھتا ہے جہاں پانچ بڑے نسبی قبائل کے بزرگ اکثر تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس کے باوجود سیاسی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وہ مذاکرات جو امریکہ اور برطانیہ کی نگرانی میں جاری تھے، پندرہ مئی کے بعد سے مکمل طور پر بند ہیں۔
حالات اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئے جب سابق صدر محمد عبداللہی محمد، جو فارماجو کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے اعلان کیا کہ وہ ایک وسیع سیاسی مکالمے کی قیادت کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ملک کو اس تعطل سے نکالا جا سکے۔ تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ طاقت کی کشمکش، انتخابی بحران اور مسلح گروہوں کی موجودگی نے صومالیہ کے سیاسی مستقبل کو غیر یقینی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے


