Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبھارتسنٹرل گورنمنٹ اور آر بی آئی کے مشترکہ اقدامات: کیا بھارت میں...

ٹرینڈنگ

سنٹرل گورنمنٹ اور آر بی آئی کے مشترکہ اقدامات: کیا بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی لہر آ سکتی ہے؟

سنٹرل گورنمنٹ اور آر بی آئی کے مشترکہ اقدامات: کیا بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی نئی لہر آ سکتی ہے؟
نئی دہلی: مالیاتی ماہرین کے مطابق حکومتِ ہند اور مرکزی بینک کے درمیان بڑھتے ہوئے مشترکہ پالیسی اقدامات سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری (فارن کیپیٹل اِن فلو) کو فروغ ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت کی ادائیگیوں کا توازن (بیلنس آف پیمنٹس) دباؤ کا شکار بتایا جا رہا ہے۔

حالیہ پالیسی فریم ورک کے تحت بھارت کی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے ایسے اقدامات شروع کیے ہیں جن کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، کرنسی استحکام کو یقینی بنانا اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات میں سرمایہ کاری کے قوانین میں نرمی، بانڈ مارکیٹ تک غیر ملکی رسائی میں بہتری، اور اسٹریٹجک سیکٹرز میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولتیں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک کی جانب سے لیکویڈیٹی مینجمنٹ اور شرحِ سود کے متوازن استعمال کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ عالمی سطح پر سرمایہ کار اب زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ امریکی ڈالر اور عالمی شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے دباؤ پیدا کر رہا ہے۔

تاہم حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہا تو بھارت نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھ سکتا ہے بلکہ اپنی ادائیگیوں کے توازن کے دباؤ کو بھی کم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت اور مرکزی بینک کا ہم آہنگ ہونا سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت سگنل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے میکرو اکنامک استحکام اور پالیسی کی پیش بینی بہتر ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ مشترکہ حکمتِ عملی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بھارت عالمی سرمایہ کاری کے نقشے پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی اصلاحات کی رفتار پر

مزید پڑھیں