Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپنجاب: قومی خزانے کی لوٹ مار، بیڈ گورننس اور اقربا پروری کا...

ٹرینڈنگ

پنجاب: قومی خزانے کی لوٹ مار، بیڈ گورننس اور اقربا پروری کا نشان بن گیا۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکمران پارٹی کے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی لوٹ مار اور اختیارات کے غلط استعمال میں مشغول ہیں جبکہ عوام کی اکثریت الیکشن میں دھاندلی اور زبردستی نافذ کی گئی حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو کر سسٹم اور جمہوریت کو کوس رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں گڈ گورنس، قانون کی حکمرانی اور خوش حالی آ گئی ہے، زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ زراعت زوال پذیر ہے، انڈسٹری اور مینوفیکچرنگ تقریباً بند ہو چکی ہے، بے روزگاری عروج پر ہے ، تاجر چند گھنٹوں کیلئے دکانیں کھول کر خریداروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ چونکہ صوبے میں معاشی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں، بےبس لاچار کڑوروں عوام کا پیٹ بھرنے اور اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے بھاری سود پر قرض لیکر امدادی رقوم نقد اور مختلف اسکیموں اور ناموں سے تقسیم کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف قوم کو قرض کے پیسے سے بھکاری بنایا جا رہا ہے، دوسری طرف طاقتور مراعات یافتہ طبقے کی سہولتوں میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ، نئے جی او آر اور ڈی ایچ اے بن رہے ہیں۔ انتظامی افسران کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے، اپنا دست و بازو بنانے کیلئے کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کی کھلی چُھٹی دے دی گئی ہے، سزا یا باز پرس صرف ان افسران کیلئے ہے جو میرٹ اور انصاف کی بات کرتے ہیں یا سیاسی مخالفین کو ناجائز تنگ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جن اعلیٰ افسران نے ماضی میں کرپشن کے بازار گرم کئے اور حکمرانوں کو برابر حصہ دیا ،اب اہم سیاسی اور انتظامی عہدوں پر فائز ہیں اور بیوروکریسی کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ مقتدرہ کو انکی خدمات کے عوض انکا حصہ اور اختیارات دیکر خاموش کر دیا گیا ہے بلکہ الٹا انکو ڈرایا جاتا ہے کہ موجودہ جمہوری پردہ ہٹ گیا تو عوامی غیظ و غضب انہیں بہا کر لے جائے گا۔ حکومتی ممبران پارلیمنٹ کو عوام کے جذبات انکی آنکھوں میں چھپی نفرت کا بالکل اندازہ ہے، اِسی لیے وہ عوام کو مطمئن کرنے، انکے مسائل حل کرنے کے بجائے ڈویلپمنٹ اسکیموں سے کمیشن اور دوسرے ذرائع سے مال بنانے میں مصروف ہیں۔ کبھی سسٹم کی تبدیلی اور کبھی صوبوں کی تقسیم کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو لال بتی کے پیچھے لگایا جاتا ہے۔ بیچ میں غیر مطمئن عوام کو وقتی طور پر خوش کرنے کیلئے اپوزیشن سے خفیہ مذاکرات اور ڈیل کا منجن بیچا جا رہا ہے ۔ ایک کم وسائل بے ہنگم آبادی والا ملک جہاں عوام کی اکثریت تعلیم و تربیت سے محروم ہے، سیاسی سماجی اور مذہبی تفریق کا شکار ہے اور جہاں اشرافیہ لوٹ مار کو اپنی ترقی کا زینہ سمجھتی ہے ، کب تک اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی اسکا فیصلہ آپ نے کرنا ہے ۔

مزید پڑھیں