“عالمی طاقتوں کی تعریف پر بڑا سوال: کون ہیں اصل ‘بڑی طاقتیں’ اور کیوں کوئی متفق نہیں؟”
“عالمی طاقتوں کی تعریف پر بڑا سوال: کون ہیں اصل ‘بڑی طاقتیں’ اور کیوں کوئی متفق نہیں؟”
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی نظام میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ “بڑی طاقت” کی اصل تعریف کیا ہے اور دنیا میں حقیقی طور پر ایسی کتنی طاقتیں موجود ہیں۔
تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس اصطلاح کا استعمال عالمی سیاست میں عام ہے، لیکن اس پر کوئی متفقہ تعریف موجود نہیں۔ مختلف ممالک اور ماہرین اپنے اپنے معیار کے مطابق بڑی طاقتوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اختلاف برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق بڑی طاقتوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ عالمی مسائل پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اکثر یہ توقع رکھتی ہیں کہ اہم فیصلوں میں انہیں لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ ان کی عدم موجودگی بعض اوقات عالمی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
مزید یہ کہ یہ ممالک اپنے قریب واقع چھوٹے ممالک پر زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور بعض اوقات خودمختاری کے اصولوں کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں، خاص طور پر جب علاقائی مفادات شامل ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی طاقتیں عالمی قوانین کے حوالے سے بھی دوہرا رویہ اختیار کر سکتی ہیں، یعنی کبھی وہ بین الاقوامی قوانین کی حمایت کرتی ہیں اور کبھی اپنے قومی مفاد میں ان کی مختلف تشریح پیش کرتی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کی بڑی طاقت ہونے کی بنیادی بنیاد اس کے وسائل، خصوصاً فوجی صلاحیت اور دفاعی اخراجات ہوتے ہیں، جو اس کی عالمی اثر انگیزی کا تعین کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ دور میں بڑی طاقتوں کی شناخت اور تعداد پر اتفاق نہ ہونا عالمی سیاست کی ایک بنیادی پیچیدگی بن چکی ہے، جس پر آئندہ بھی بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔


