“کینیڈا کو 51 واں امریکی ریاست بنانے کے بیان پر بحث دوبارہ تیز، ٹرمپ کے تازہ تبصرے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی”
“کینیڈا کو 51واں امریکی ریاست بنانے کے بیان پر بحث دوبارہ تیز، ٹرمپ کے تازہ تبصرے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کے خیال کو دہرایا ہے، جس کے بعد سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ سامنے آیا جب انہوں نے ایک رپورٹ شیئر کی جس میں کہا گیا تھا کہ کینیڈا ایک بار پھر معاشی سست روی یا “تکنیکی کساد بازاری” میں داخل ہو گیا ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے مختصر مگر واضح انداز میں “51ویں ریاست!” لکھا۔
یہ خیال ٹرمپ پہلے بھی مختلف مواقع پر پیش کر چکے ہیں، تاہم اس بار یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تعلقات اور معاشی تعاون کے حوالے سے نئی بات چیت اور “نئی شراکت داری” کی بحث جاری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے بیانات اگرچہ اکثر علامتی یا سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، لیکن یہ دونوں ممالک کے تعلقات پر ذرائع ابلاغ اور سفارتی سطح پر فوری ردعمل پیدا کرتے ہیں۔
کینیڈا کی جانب سے اس بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم معاملہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر زیرِ بحث ہے۔


