پاکستان نے نیا مقام حاصل کرلیا، فارن پالیسی میگزین
پاکستان نے نیا مقام حاصل کرلیا، فارن پالیسی میگزین
دنیا کے ممتاز بین القوامی جریدے فارن پالیسی نے بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے حوالے سے لکھا ہے ، پاکستان کی سفارتی پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں اسے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی سیاست میں نمایاں کردار کی طرف لے جا رہی ہیںُ،فارن پالیسی اور دیگر عالمی میڈیا پلیٹ فارم سے ایران امریکہ جنگ کے پسمنظر میں پاکستان کے کردار کی تعریف تو ہورہی ہے مگر عالمی میڈیا کے کسی تجزیے یا رپورٹ میں یہ نہیں بتایا دکھا جارہا کے پاکستان کے مذکورہ کردار یا بڑھتے امیج سے اسکے عوام کو مستقبل قریب میں کیا فائدے مل سکتے ہیں جو بدترین مہنگائ بدعنوانی اور بد انتظامی کے ساتھ لاقانونیت اور ریاستی ناانصافی کا شکار ہیں اور جہاں غربت بھوک بے روزگاری اور بڑھتی ناخواندگی کے باعث تشدد میں روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں انتہا پسندی کے ساتھ دھشت گردی بھی عروج پر ہے
فارن پالیسی نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اپنی خارجہ پالیسی میں ایسا رخ اختیار کیا ہے جس کے باعث وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات اور خطے کی دیگر سفارتی سرگرمیوں میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کردار چند سال قبل اس سطح پر ممکن نہیں سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ماضی میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات زیادہ تر دہشت گردی کے خلاف تعاون اور افغانستان کی صورتحال کے گرد گھومتے رہے ہیں
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں سخت بیانیہ بھی سامنے آتا رہا، تاہم اب خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست نے نئی سفارتی گنجائشیں پیدا کی ہیں
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمتِ عملی اسے ایک ایسے “power player” کے طور پر پیش کر رہی ہے جو بڑے عالمی تنازعات میں براہِ راست نہیں مگر بالواسطہ طور پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے
ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو پاکستان خطے میں اپنی سفارتی اہمیت مزید بڑھا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے اسے بڑے عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا


