ظالموں سے عام شہری کی سرشاری بھی برداشت نہیں
میانوالی — ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے مقامی سطح پر خاموش اداسی اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔ تھانہ موسیٰ خیل سے منسوب ایک مبینہ واقعے میں بزرگ شہری مرسلین خان کے ساتھ پولیس کے رویے پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کی مونچھیں کاٹ دی گئیں۔ یہ دعوے سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں اور لوگوں میں اس پر دکھ اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس واقعے کی مکمل تصدیق یا وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم بحث کا رخ اب محض ایک واقعے سے آگے بڑھ کر انسانی وقار اور طاقت کے استعمال کے طریقہ کار کی طرف چلا گیا ہے۔ علاقے کے شہری اس بات پر افسردہ ہیں کہ اگر یہ بات درست ثابت ہوتی ہے تو یہ صرف ایک فرد کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ نہیں بلکہ اس احساس کی عکاسی ہے کہ کمزور شہری کے احترام اور اس کی ذاتی شناخت بھی بعض اوقات محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معاشرے میں پہلے ہی ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کے فاصلے پر گفتگو جاری ہے۔ انسانی وقار سے جڑے ایسے معاملات، چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں، ایک بڑی اجتماعی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں طاقت اور کمزوری کے درمیان توازن بگڑنے کا احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسے الزامات بغیر شفاف تحقیقات کے بڑھتے رہیں تو یہ معاشرے میں خاموش خوف اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں، جس کا نقصان صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو ہوتا ہے۔ یہ واقعہ فی الحال سوالات کے سائے میں ہے، مگر اس نے ایک بار پھر یہ احساس ضرور تازہ کیا ہے کہ انسانی وقار صرف قانون نہیں، بلکہ رویے اور اختیار کے استعمال میں چھپی ہوئی ایک باریک ذمہ داری بھی ہے


