سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمان کا اُس آئین کے تحت حقوق کا مطالبہ جس کا کہیں کوئ وجود نہیں
سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمان کا اُس آئین کے تحت حقوق کا مطالبہ جس کا کہیں کوئ وجود نہیں
کے پی کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت ایک بڑے وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے انکی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی ہے اور صوبے کے تمام مسائل پر گفتگو کرکے اتفاق رائے حاصل کیا ہے ،ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے مرکز سے صوبے کے آئینی حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے ، سہیل آفریدی نے کہا ہے ہمارے صوبے کو این ایف سی ایوارڈ سے پورا حصہ نہیں مل رہا فاٹا کو صوبے میں شامل کیے عرصہ ہوا جس کی آبادی سات لاکھ سے زائد ہے مگر جس کے مالی حقوق مرکز دینے کو تیار نہیں ، سہیل آفریدی کے مذکورہ مطالبے پر سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں دراصل سہیل آفریدی مرکز سے وہ حق مانگ رہے
- جو حق زرداری اور نواز شریف کو مل رہا ہے ، سہیل آفریدی اور مولانا کی جانب سے آئینی حقوق کی طلبی پر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ، دونوں رہنماؤں سے پوچھا جانا چاہیے تھا کیا ریاست میں جو آئین ہے وہ کہیں عملی شکل میں موجود ہے جس کی روشنی میں پاکستانی سیاسی رہنما مطالبات پیش کرتے ہیں ، تجزیہ نگار کہتے ہیں ، جب تک پاکستانی سیاست دان تاثر دیتے رہیں گے ملک میں آئین ہے بھی اور اس پر عمل بھی ہورہا ہے عوام ریاستی مظالم کے خلاف کبھی متحد ہوکر باہر نہیں نکلیں گے ، سہیل آفریدی نے کہا ہے جو این ایف سی ایوارڈ دیگر صوبوں کو آئین کے مطابق حق دیتاہےوہ کے پی کو کیوں نہیں ؟ انہوں نے کہا فاٹا کی سات لاکھ آبادی ہے مگر ان کے حصے کا دور دور تک پتہ نہیں ، این ایف سی درست تقسیم نہی ہورہا آٹھ سال سے ، گندم پنجاب روک رہا ۔۔ جو آئین کے آرٹیکل ایک سو اکیاون کی خلاف ورزی ہے
ہمارا صوبہ پانچسو این ایم بی گیس پیدا کراتا ہے ہمارا خرچ ایک سو پچاس ہے این ایم بی ہے مگر مرکز وہ بھی دینے کو تیار نہیں
جبکہ آئین کے مطابق گیس پر پہلا حق ہمارا ہے ، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا ہے وزیراعلی اور انکے وفد سے قبائلی علاقوں کے مسائل سمیت متعدد ایشوز پر بات ہوئ اور اتفاق رائے پایا گیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے
صوبے کے عوام اپنے وسائل کے مالک ہیں، این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی حق ہے یہ اضافی تو ہوسکتا ہے کم نہں کیا جاسکتا، مرکز صوبوں کے وسائل پر قبضہ نہیں کرسکتا ، ہم صوبائ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام مسائل پر اتفاق رائے رکھتے ہیں صوبے میں امن و امان بڑا مسئلہ ہے جبکہ صوبے کے جنوبی شہروں میں حکومت کی کوئ رٹ نہیں ہے جو مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر ہیں ، اس مسئلے کے حل کے لیے بھی وزیر اعلی اور انکے وفد سے بات چیت ہوئ ، مولانا نے بتایا “ قبائلی علاقوں کو بظاہر صوبے میں ضم کیا گیا مگر عملا وہ ضم نہیں ہوسکے نہ قبائلی عوام کے مسائل میں کوئ کمی آئ بلکہ اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے کہا صوبے کے معدنی ذخائر کو قبضے میں لیا جارہا ہے ، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے صوبے میں پنجاب سے گندم پر پابندی نواز شریف کی وزارت اعلی کے دور سے شروع ہوئ، جب ان سے شکائیت کی گئی تو کہا گیا ہم پابندی ختم کردیتے ہیں مگر آپ کے صوبے سے گندم افغانستان اسمگل ہوجائے گی ، مگر آج تو آپ کی ہی حکومت نے دونوں ملکوں کی سرحد بند کی ہوئ ہے جب سرحد ہی بند ہے تو گندم کیسے اسمگل ہوجائے گی ، انہوں نے کہا ہے گندم پہ پابندی نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ، مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے گلگت بلتستان کے انتخاب میں ہونے والی دھاندلی کو ہم نے تحریک انصاف کے ساتھ ملکر اتفاق رائے سے مسترد کردیا ہے ، مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے ہماری خواہش ہے صوبوں کے حقوق کے پسمنظر میں وفاق اور صوبے کی سطح پر تمام سیاسی پارٹیوں سے ملکر بات کرنا چاہیئے اور تحریک انصاف کی حکومت کو بھی اس معاملے میں اپنی کوشش کرنی چاہئے


