تیل کی عالمی قیمتوں میں اچانک کمی، ایران معاہدے کے دعووں اور خطے میں جنگی کشیدگی کے باوجود بازار میں بڑی ہلچل
تیل کی عالمی قیمتوں میں اچانک کمی، ایران معاہدے کے دعووں اور خطے میں جنگی کشیدگی کے باوجود بازار میں بڑی ہلچل
عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دعوے تھے کہ تہران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے، اگرچہ زمینی سطح پر اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً دو فیصد کمی کے ساتھ 89.40 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.7 فیصد کمی کے بعد 92.65 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو ایک غیر یقینی سیاسی اشارہ قرار دیتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاہدہ “دو سے تین دن میں” ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدہ ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھل جائے گی، تاہم اس سے قبل بھی وہ متعدد بار اس طرح کے دعوے کر چکے ہیں جو ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔
آبنائے ہرمز، جسے عالمی توانائی ترسیل کا سب سے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے، اس وقت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں تیل کی قیمتیں اکثر سیاسی بیانات اور ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے خدشات پر فوری ردعمل دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ کمی زیادہ تر امید اور غیر یقینی صورتحال کے ملاپ کا نتیجہ ہے، جہاں ایک طرف ممکنہ سفارتی پیش رفت کا تاثر ہے تو دوسری طرف زمینی حقائق اب بھی کشیدہ اور غیر مستحکم ہیں۔
توانائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع واضح سمت اختیار نہیں کرتا، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے


