سیکولر سے ہندوتوا تک بڑا سیاسی جھکاؤ: بنگالی بھدرا لوک کی حمایت نے بی جے پی کو مغربی بنگال میں نئی طاقت دے دی
سیکولر سے ہندوتوا تک بڑا سیاسی جھکاؤ: بنگالی بھدرا لوک کی حمایت نے بی جے پی کو مغربی بنگال میں نئی طاقت دے دی
کولکاتا: بھارتی سیاست میں ایک اہم اور غیر متوقع تبدیلی کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2026 کے انتخابات میں مغربی بنگال کے تعلیم یافتہ اور شہری متوسط طبقے، خاص طور پر روایتی طور پر سیکولر سمجھے جانے والے “بنگالی بھدرا لوک” طبقے کی نمایاں حمایت حاصل کر لی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سیاسی جھکاؤ مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جہاں برسوں سے حکمران جماعت ترنمول کانگریس کو شہری متوسط طبقے کے بعض حلقوں میں تنقید اور عدم اطمینان کا سامنا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس تبدیلی کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں، جن میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسائل، مبینہ بدعنوانی کے الزامات، اور ریاستی انتظامیہ کے خلاف عوامی غصہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حالیہ سماجی تحریکوں اور احتجاجی لہروں نے بھی سیاسی ماحول پر اثر ڈالا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ تنظیمی سطح پر آر ایس ایس کی مسلسل سیاسی و سماجی سرگرمیوں نے بھی اس طبقے کے کچھ حصوں میں نظریاتی تبدیلی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
خاص طور پر کولکاتا اور دیگر شہری علاقوں میں تعلیم یافتہ طبقے کے اندر یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ ریاستی سیاست میں سیکولر اور نظریاتی شناخت کے بجائے حکمرانی، روزگار اور گورننس کے مسائل زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر سکتی ہے، جہاں روایتی سیاسی تقسیم کمزور ہو رہی ہے اور ووٹر زیادہ عملی مسائل کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔
تاہم کچھ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ رجحان مکمل طور پر مستحکم نہیں اور آئندہ انتخابات میں حالات دوبارہ تبدیل بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ ریاستی سیاست ہمیشہ سے انتہائی متحرک اور غیر متوقع رہی ہے۔


