سرمایہ کاری کے دعوے “سرکارِ اعلیٰ “کو خوش رکھنے کے تاثر میں دبے سسک رہے ہیں
اسلام آباد — پاکستان میں معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور کاروباری آسانیوں کے حوالے سے سرکاری سطح پر بارہا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ ملک غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہا ہے۔ تاہم کاروباری طبقے، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مقامی تاجر برادری کے درمیان ایک دیرینہ تاثر موجود ہے کہ عملی سطح پر صورتحال بیانات سے یکسر مختلف ہے مختلف حلقوں میں یہ بات تسلسل کے ساتھ دہرائی جاتی ہے کہ کاروبار شروع کرنے، اسے چلانے اور وسعت دینے کے لیے محض پالیسی اعلانات کافی نہیں ہوتے بلکہ غیر رسمی رکاوٹیں، انتظامی پیچیدگیاں اور اثر و رسوخ کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یہ تاثر درست ہو یا غلط، لیکن اس کا بار بار سامنے آنا خود ایک بڑے نظامی سوال کی نشاندہی کرتا ہے تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاری صرف قوانین یا مراعات سے نہیں آتی بلکہ اعتماد سے آتی ہے۔ جب کاروباری طبقہ یہ محسوس کرے کہ فیصلوں میں شفافیت کم اور غیر رسمی اثر و رسوخ زیادہ ہے اور ہر قسم کے کاروبار کو کرنے یا اسے ترقی دینے کی کسی بھی کوشش سے پہلے “سرکار اعلی” کو حصہ بھی دینا ہے اور اسے خوش بھی رکھنا ہے تو سرمایہ کاری کا رجحان یا تو سست ہو جاتا ہے یا متبادل راستے اختیار کر لیتا ہے، جیسے بیرونِ ملک منتقلی یا غیر رسمی معیشت کی طرف جھکاؤ تاریخی طور پر بھی مختلف خطوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہوا، وہاں سرمایہ کاری کا تسلسل متاثر ہوا، چاہے وسائل موجود بھی ہوں۔ اس کی بڑی مثالیں ان معاشروں میں ملتی ہیں جہاں قانونی نظام تو موجود تھا مگر اس پر عملدرآمد یکساں نہیں تھا، جس کے نتیجے میں معاشی ترقی محدود یا غیر متوازن رہی دوسری جانب حکومت کی جانب سے بارہا یہ مؤقف سامنے آتا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے مواقع موجود ہیں اور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں، تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف اصلاحات کا اعلان کافی نہیں ہوتا بلکہ ان پر عملدرآمد، ادارہ جاتی یکسانیت اور فیصلہ سازی میں شفافیت ہی اصل پیمانہ ہے تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ سرمایہ کاری کے منصوبے موجود ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سرمایہ کار کو یہ یقین حاصل ہے کہ اس کا فیصلہ قواعد کے مطابق ہوگا یا اثر و رسوخ کے مطابق، یہی وہ نکتہ ہے جو کسی بھی ملک کی معاشی سمت طے کرتا ہے اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے بھی یہ بحث مسلسل سامنے آتی ہے کہ اگرچہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن عملی رکاوٹیں اور اعتماد کا فقدان انہیں محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے ماہرین کے مطابق اگر اعتماد اور شفافیت کے اس خلا کو پر نہ کیا گیا تو معاشی ترقی کے بلند اہداف، سرمایہ کاری کے اعلانات اور ترقی کے دعوے ایک متوازی حقیقت بن کر رہ سکتے ہیں، جبکہ اصل معیشت سست رفتاری اور غیر یقینی کا شکار ہی رہے گی یوں یہ بحث صرف معیشت تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس سوال تک پہنچتی ہے کہ کسی بھی ریاست میں ترقی کا اصل انجن قانون کی بالادستی ہے یا اثر و رسوخ کا نظام اور یہی فرق مستقبل کا تعین کرتا ہے


