Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکالم / بلاگسب گول مال ہے

ٹرینڈنگ

سب گول مال ہے

سب گول مال ہے
کامران طفگیل

‏پاکستان اشرافیہ کی ایسی چراہگاہ بن چکا ہے جس میں عوام بیگار کاٹ رہے ہیں،وہ سارا دن ہل جوتتے، پانی لگاتے اور پنیری لگاتے ہیں،اور اشرافیہ کے اسوار اس چراہگاہ میں پہنچ کر سارا سبزہ چر جاتے ہیں اور گھاس پھونس بچ جاتا ہے۔
‏آپ کو چند مثالوں سے واضح کرتا ہوں، یہ شوگر ملز کے مالکان کون ہیں؟ یہ ہر سال حکومت سے سبسڈی کیسے لیتے ہیں؟ہر کابینہ ان کے حق میں قانون سازی کیسے کرتی ہے؟ ہر سال سرپلس پروڈکشن کیسے ہوتی ہے؟پھر وہ پروڈکشن غائب کیسے ہوتی ہے؟ پھر عوام کی جیب سے پیسہ چوری ہو کر کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
‏سیمنٹ کا نرخ کس طرح سے صرف ایک دو روپے کے فرق سے ملتا جلتا ہی کیوں ہوتا ہے؟جب کہ لاگت تو سب کی ایک سی نہیں ہوسکتی؟ بیس سال تک ہنڈا ایٹلس، ٹویوٹا پاکستان اور سوزوکی ایک ہی دن نرخ کیسے بڑھا لیتے ہیں؟ اور ان کا قیمت فروخت میں اضافہ ایک جتنا ہی کیوں ہوتا ہے؟
‏پاکستان کی تمام لارج سکیل انڈسٹری چند مخصوص ہاتھوں میں ہی کیوں ہے؟
‏کھاد کا کام کون کرتا ہے؟کھاد کے نرخ کون کنٹرول کرتا ہے؟کسانوں کے جیب سے پیسہ چوری کرکے کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
‏یہ کوئی ایسا معمہ نہیں ہے جو کسی بھی معاملہ فہم انسان سے چھپا ہوا ہو۔
‏ایسا کیوں ہے کہ الیکشن کی لاگت بیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ یعنی اس کلب میں عوام کا کوئی بندہ شامل ہو ہی نہیں سکتا۔
‏اسمبلیوں میں آپ ایک درجن مڈل کلاس کے بندوں کی مثال دے سکتے ہیں؟
‏یہ جو لوگ پالیسی بناتے ہیں ان کا عوام کے مسائل سے کیا لینا دینا ہے؟ احسن اقبال، اسد عمر، خسرو بختیار، نوید قمر،اورنگزیب رمدے یا شوکت ترین کو کبھی زندگی میں ایک بار بھی معاشی تنگی محسوس ہوئی ہوگی؟
‏آپ کو کیا لگتا ہے کہ آنے والا بجٹ آپ کے لئے کوئی ریلیف لا سکتا ہے؟ آپ کی زندگیوں کو آسان بنائے گا یا آپ کے جہنم میں ایندھن کا اضافہ کرنے کی کوشش ہی ہوگا؟پچھلے دس سال میں آپ کسی ایسی قانون سازی کا بتا سکتے ہیں جس کا عوام کو براہ راست کوئی فائدہ ہوا ہو؟
‏آپ کو لگتا ہے کہ الیکشن کو سستا کرنا قانون ساز اسمبلی کے لئے مشکل کام ہے؟ ملک کی تینوں بڑی جماعتیں ایسے بلدیاتی نظام کے خلاف کیوں ہوں جس میں مالی اختیارات نیچے چلے جائیں؟ اور عام آدمی سٹیک ہولڈر بن جائے؟
‏ابھی چند ذہنی غلام آ کر آپ کو بتائیں گے کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا جاتا تو سب ٹھیک ہوجاتا، کچھ کہیں گے کہ تیرہ سے اٹھارہ تک ملک اوپر اٹھ رہا تھا اور کچھ احمق ترین لوگ آپ کو بتائیں گے کہ صرف جاگیرداروں کی ایک جماعت کو ہی علم ہے کہ معیشت اوپر کسیے جانی ہے۔
‏یہ سب رانگ نمبرز ہیں،جھوٹے ہیں، فراڈ ہیں۔
‏کامران طفیل

مزید پڑھیں