ریاستی طاقت، عوامی مزاحمت اور مسلسل بحران: آزاد کشمیر ایک نئے سیاسی موڑ پر
ریاستی طاقت، عوامی مزاحمت اور مسلسل بحران: آزاد کشمیر ایک نئے سیاسی موڑ پر
آفاق فاروقی
آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت پابندی اور اسے کالعدم قرار دینے کا فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی بحران کی علامت ہے۔ یہ صورتحال اس سوال کو دوبارہ زندہ کرتی ہے کہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ آخر کس حد تک کمزور ہو چکا ہے، اور کیا ریاستی طاقت مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا رہی ہے
حالیہ عرصے میں اس عوامی تحریک کے بنیادی مطالبات میں بجلی کے نرخوں میں کمی، اشرافیہ کی مراعات میں کمی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص بارہ نشستوں کے نظام پر نظرثانی شامل رہے ہیں۔ تحریک کا مؤقف یہ ہے کہ یہ نشستیں ریاستی نمائندگی کے اصل اصول کے بجائے ایک سیاسی توازن کا حصہ بن چکی ہیں، جس میں مقامی عوام کی براہ راست شمولیت محدود ہو جاتی ہے
یہی وہ نقطہ ہے جہاں تنازعہ محض انتظامی نہیں رہتا بلکہ سیاسی شناخت اور نمائندگی کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ جب عوامی سطح پر یہ احساس پیدا ہو کہ فیصلے ان کی مرضی کے مطابق نہیں ہو رہے تو پھر احتجاج صرف مطالبات تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاستی ڈھانچے پر سوال اٹھنے لگتے ہیں
ریاستی ردعمل ہمیشہ سے اس خطے میں ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ ایک طرف ریاست کو اندرونی سلامتی کے چیلنجز درپیش ہیں جن میں خیبرپختونخوا میں شدت پسندی، بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں، پنجاب میں سیاسی بے چینی، اور سندھ میں مرکز و صوبے کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات شامل ہیں۔ دوسری طرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جیسے خطے بھی اب اسی سیاسی دباؤ کے دائرے میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں ریاستی پالیسی کا سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا حل سختی اور قانونی پابندی ہے یا سیاسی مکالمہ اور اصلاحات بھی اسی عمل کا حصہ ہیں
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ریاستیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں، بلکہ اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب وہ ان آوازوں کو سننے اور سمجھنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں تحریکِ خلافت سے لے کر بنگال کی سیاسی تحریکوں اور بعد ازاں مختلف صوبائی حقوق کی تحریکوں تک یہ بات بار بار ثابت ہوئی ہے کہ جب سیاسی مطالبات کو مسلسل نظرانداز کیا جائے تو وہ سماجی مزاحمت میں تبدیل ہو جاتے ہیں
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ محسوس ہوتی ہے، جہاں ایک عوامی تحریک اپنے بنیادی مطالبات کے ساتھ اب ریاستی نظام کے اندر نمائندگی اور اختیار کے سوالات اٹھا رہی ہے۔ ایسے میں اسے صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر حل کرنا شاید مسئلے کی اصل جڑ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو
اگر نو تاریخ کی مجوزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کامیاب ہوتی ہے اور بڑے پیمانے پر عوامی شرکت سامنے آتی ہے تو یہ صورتحال ریاست اور عوام دونوں کے لیے ایک نازک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک طرف ریاستی رٹ کا سوال ہوگا اور دوسری طرف عوامی نمائندگی اور حقوق کا۔ ایسے حالات میں تصادم کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے تصادم اکثر دیرپا سیاسی حل کے بجائے مزید گہرے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں
یہاں ایک اور پہلو بھی اہم ہے کہ جب کسی خطے میں انسانی حقوق، سیاسی آزادی اور ریاستی اقدامات کے بارے میں سوالات بین الاقوامی سطح پر اٹھنے لگیں تو وہ مسئلہ صرف داخلی نہیں رہتا۔ ماضی میں بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جہاں داخلی سیاسی مسائل بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے اور ریاستی بیانیہ عالمی دباؤ کے تحت مزید پیچیدگیوں کا شکار ہوا، ایک ایسے وقت میں جب ایران امریکہ کے درمیان ثالث بنکر ریاست عالمی تنہائ سے باہر نکلتی نظر آتی ہے اور عالمی برادری اسکے مثبت کردار کی تعریفیں کرنے میں مصروف ہے وہ کشمیر میں عوام پر چڑھائی کرکے اپنے کیے کرائے پر پانی نہیں پھیر رہی ؟
اصل سوال یہ ہے کہ ریاست آخر کس سمت جانا چاہتی ہے۔ کیا وہ طاقت کے ذریعے ہر اختلاف کو قابو میں رکھنا چاہتی ہے یا پھر ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ بنانا چاہتی ہے جہاں اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے۔ اسی سوال کے اندر اس بحران کا حل بھی پوشیدہ ہے
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرے۔ سلامتی، ترقی اور سرمایہ کاری اس وقت تک مکمل طور پر ممکن نہیں جب تک داخلی سیاسی استحکام موجود نہ ہو۔ اور سیاسی استحکام صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور نمائندگی سے حاصل ہوتا ہے
آزاد کشمیر کا موجودہ بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے ریاستی سوال کی علامت ہے: کیا ریاست اپنے شہریوں کو صرف انتظامی رعایا سمجھتی ہے یا انہیں سیاسی شراکت دار بھی تسلیم کرتی ہے؟ اسی سوال کا جواب آنے والے دنوں میں اس خطے کے مستقبل کا تعین کرے گا


