حماس کے نئے سربراہ بھی بیوی دو نوجوان بیٹوں سمیت مارے گئے
حماس کے نئے سربراہ محمد عودہ اپنی اہلیہ اور دو کم عمر بیٹوں سمیت مارے گئے۔ حماس نے غزہ میں اپنے سربراہ محمد عودہ کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ روز غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس حملے میں محمد عودہ، ان کی اہلیہ اور دو بیٹے شہید ہو گئے۔ بدھ کے روز غزہ سٹی میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ حماس کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کو غزہ سٹی کے علاقے رمل میں ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا، جس سے عمارت کی بالائی منزل مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ غزہ کے طبی حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم تین مزید افراد بھی جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق محمد عودہ نے صرف 11 روز قبل ہی القسام بریگیڈز کی قیادت سنبھالی تھی، اس سے قبل یہ ذمہ داری عزالدین الحداد کے پاس تھی جو خود بھی اسرائیلی حملے میں شہید ہو چکے تھے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد عودہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران حماس کے انٹیلی جنس سربراہ تھے اور ان حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے، جبکہ جنگ کے دوران وہ اسرائیلی فوج کے خلاف کارروائیوں اور انٹیلی جنس آپریشنز کی نگرانی بھی کرتے رہے۔ اہلِ خانہ نے جنازے کے موقع پر کہا کہ فلسطینی جدوجہد جاری رہے گی اور اسرائیلی کارروائیاں انہیں اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جبکہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک تقریباً 900 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔


