تہران کے دروازے پھر کھل گئے؟ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خفیہ و اہم دورۂ ایران کی بازگشت، ‘دنیا کو پہلی گواہی ملے گی نئے آیت اللہ زندہ ہیں’”
تہران کے دروازے پھر کھل گئے؟ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خفیہ و اہم دورۂ ایران کی بازگشت، “دنیا کو پہلی گواہی ملے گی نئے آیت اللہ زندہ ہیں
مشرقِ وسطیٰ کے جلتے ہوئے سیاسی افق پر ایک نئی سرگوشی سنائی دے رہی ہے۔ چند گھنٹے پہلے تک یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا متوقع دورۂ ایران ملتوی یا منسوخ ہو چکا ہے، مگر اب باخبر سفارتی ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستانی عسکری قیادت خاموشی سے تہران کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پسِ پردہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی سب سے متحرک کوششوں میں شامل دکھائی دے رہا ہے
ذرائع کے مطابق اس دورے کی سب سے اہم اور حساس شرط ایک “براہِ راست ون ٹو ون ملاقات” تھی، یعنی فیلڈ مارشل کی ایرانی سپریم لیڈر مُجتبی خامنہ ای سے آمنے سامنے ملاقات، بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں تہران اس معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار تھا، خاص طور پر ان افواہوں اور عالمی قیاس آرائیوں کے بعد جن میں ایران کے اندرونی طاقت کے توازن، انقلابی گارڈز کے اثر و رسوخ، اور جنگی صورتحال میں قیادت کی اصل حالت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ مگر اب اگر یہ ملاقات واقعی ہو جاتی ہے تو اسے صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ “دنیا کے لیے پہلی بڑی گواہی” سمجھا جائے گا
کیونکہ کئی مغربی حلقے اور امریکی میڈیا مسلسل یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ایران مکمل طور پر اب بھی خامنہ ای کے کنٹرول میں ہے یا طاقت کے مختلف مراکز اب الگ الگ سمتوں میں حرکت کر رہے ہیں،واشنگٹن میں “رجیم چینج” کی سرگوشیاں، تہران میں انقلابی بیانیہ، اور خطے میں جاری کشیدگی ، ان سب کے درمیان اگر پاکستانی فیلڈ مارشل براہِ راست خامنہ ای سے ملاقات کرتے ہیں تو دنیا یہ دیکھنے کی کوشش کرے گی کہ ایران کی اصل سیاسی نبض کہاں دھڑک رہی ہے
پاکستان کی ثالثی کوششیں پہلے ہی عالمی توجہ حاصل کر چکی ہیں،مختلف بین الاقوامی رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آ چکا ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ان رابطوں کا مرکزی چہرہ قرار دیا جا رہا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکی حلقے ایران پر دباؤ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں، تو دوسری جانب تہران کے اندر یہ احساس بھی بڑھ رہا ہے کہ مکمل محاذ آرائی پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتی ہے،ایسے میں پاکستان کی عسکری و سفارتی قیادت خود کو ایک “خاموش پل” کے طور پر پیش کر رہی ہے ،ایسا پل جو شاید جنگ اور مذاکرات کے درمیان آخری راستہ بن جائے
اگر یہ ملاقات ہو جاتی ہے، تو صرف سفارتی تصویریں نہیں آئیں گی؛ بلکہ دنیا چہروں کے تاثرات، جسمانی زبان، نشست کی ترتیب، اور طاقت کے اشاروں سے یہ سمجھنے کی کوشش کرے گی کہ ایران اس وقت کس کیفیت میں کھڑا ہے:
کیا انقلاب اب بھی مرکز میں ہے؟
کیا ریاستی ادارے ایک صفحے پر ہیں؟
یا پھر تہران کے ایوانوں میں خاموش طاقت کی نئی شطرنج بچھ چکی ہے؟
فی الحال سرکاری سطح پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، مگر بین الاقوامی میڈیا اور علاقائی ذرائع مسلسل اس غیر معمولی دورے کی بازگشت سن رہے ہیں


