بارہ ارب ڈالر کا خسارہ… اور صرف چند مہینوں میں صفر؟ نیویارک کے میئر نے دنیا کو کیا سبق دے دیا
بارہ ارب ڈالر کا خسارہ… اور صرف چند مہینوں میں صفر؟ نیویارک کے میئر نے دنیا کو کیا سبق دے دیا
دنیا اکثر یہ کہتی ہے کہ “سسٹم خراب ہے، کچھ نہیں بدل سکتا۔”
مگر کبھی کبھی تاریخ میں کوئی ایسا لمحہ آتا ہے جب ایک شہر، ایک فیصلہ، اور ایک ضد پوری دنیا کے لیے سبق بن جاتی ہے۔
امریکی شہر New York City کے میئر Zohran Mamdani نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے صرف چند مہینوں میں شہر کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے بجٹ خسارے کو ختم کر کے بجٹ متوازن کر دیا ہے۔
یہ وہ خسارہ تھا جسے کئی ماہرین “تاریخی بحران” قرار دے رہے تھے۔ خود میئر کے مطابق جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو شہر شدید مالی دباؤ، بڑھتے اخراجات اور پچھلی انتظامیہ کی مالی بے ترتیبیوں کا شکار تھا۔
نہ شہر بند ہوا، نہ اسپتال، نہ لائبریریاں۔
بلکہ انتظامیہ نے ایک مختلف راستہ چنا۔
فضول اخراجات کم کیے گئے۔
امیر طبقے اور بڑی کارپوریشنز پر اضافی ٹیکس کی بات کی گئی۔
ریاستی حکومت سے مزید مالی تعاون حاصل کیا گیا۔
اور سرکاری نظام کے اندر موجود ضائع ہونے والے اربوں ڈالر تلاش کیے گئے۔
یہ خبر صرف بجٹ کی نہیں۔
یہ نیت، دیانت اور سیاسی ارادے کی خبر ہے۔
دنیا میں اکثر حکومتیں خسارے کا رونا روتی ہیں، پھر عوام پر بوجھ ڈالتی ہیں، ٹیکس بڑھاتی ہیں، سہولتیں کم کرتی ہیں اور آخر میں کہتی ہیں کہ “کوئی اور راستہ نہیں تھا۔”
مگر نیویارک کی اس مثال نے کم از کم یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ:
اگر نیت ہو…
اگر قیادت واقعی کام کرنا چاہے…
اگر حکومت عوام کے پیسے کو امانت سمجھے…
تو کیا واقعی ناممکن بھی ممکن نہیں ہو سکتا؟
یقیناً ناقدین اب بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں وقتی مالی اقدامات اور ریاستی امداد کا بڑا کردار ہے، اور اصل امتحان آنے والے برسوں میں ہوگا۔
لیکن اس سب کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے
دنیا بدلنے کے لیے ہمیشہ معجزہ نہیں چاہیے ہوتا۔
کبھی کبھی صرف ایک ایماندار ارادہ، سخت فیصلے، اور مسلسل محنت کافی ہوتی ہے


