ایک ملین ڈالر کی وہ پیشکش جو تاریخ بدل سکتی تھی: گوگل کو خریدنے کا سنہری موقع کیوں ضائع ہو گیا؟
سان فرانسسکو: آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی گوگل ایک وقت پر انتہائی معمولی قیمت میں فروخت ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی، مگر ایک فیصلہ نہ ہونے کے باعث یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ 1999 میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے دو پی ایچ ڈی طلبہ، لیری پیج اور سرگئی برن، نے اپنے سرچ انجن منصوبے کو ختم کرنے اور تعلیمی کام پر واپس جانے کے لیے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت یہ منصوبہ “بیک رب” کے نام سے جانا جاتا تھا، جسے بعد میں گوگل کا نام دیا گیا۔ اس وقت انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایکسائٹ کے چیف ایگزیکٹو جارج بیل کو کمپنی فروخت کرنے کی پیشکش کی۔ ابتدا میں قیمت دس لاکھ ڈالر رکھی گئی، تاہم یہ پیشکش مسترد کر دی گئی۔ بعد میں قیمت کم کر کے ساڑھے سات لاکھ ڈالر تک کر دی گئی، لیکن یہ موقع بھی ضائع ہو گیا۔ مبصرین کے مطابق اس وقت ایکسائٹ انتظامیہ نے سرچ ٹیکنالوجی کی اصل اہمیت کو سمجھنے میں غلطی کی، اور چند سال بعد ہی کمپنی مالی بحران کا شکار ہو کر دیوالیہ ہو گئی۔ آج گوگل کو دنیا کی سب سے قیمتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی مالیت کھربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بعض اوقات عظیم مواقع معمولی یا غیر اہم نظر آنے کے باعث ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، لیکن وقت انہیں تاریخ کا حصہ بنا دیتا ہے


