Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںایئر کنڈیشننگ کا بڑھتا ہوا استعمال شہروں کو مزید گرم بنانے لگا،...

ٹرینڈنگ

ایئر کنڈیشننگ کا بڑھتا ہوا استعمال شہروں کو مزید گرم بنانے لگا، نئی تحقیق میں انکشاف

سنگاپور میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایئر کنڈیشننگ اگرچہ شدید گرمی میں انسانوں کو فوری ریلیف فراہم کرتی ہے، لیکن مجموعی طور پر شہری درجہ حرارت میں اضافے اور ماحولیاتی مسائل کو بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق ایئر کنڈیشننگ اب صرف ایک سہولت نہیں بلکہ گرم اور مرطوب موسم والے شہروں میں بقا کا لازمی ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف لوگوں کو گرمی کی شدید لہر سے محفوظ رکھتی ہے بلکہ بچوں، بزرگوں اور کام کرنے والے افراد کے لیے محفوظ ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔ تاہم تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس سہولت پر بڑھتا ہوا انحصار ایک “پوشیدہ مسئلہ” بھی پیدا کر رہا ہے۔ جیسے جیسے لوگ اپنے گھروں اور دفاتر میں ذاتی کولنگ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، ویسے ویسے وہ شہر کی مجموعی سطح پر درجہ حرارت کم کرنے والے بڑے اقدامات کی حمایت کم کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں “اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ” پہلے ہی درجہ حرارت بڑھانے کا سبب بن رہا ہے، جہاں کنکریٹ، سڑکیں اور بلند عمارتیں دن بھر کی گرمی کو جذب کر کے رات کو بھی فضا ٹھنڈی نہیں ہونے دیتیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایئر کنڈیشنرز خود بھی گرمی خارج کرتے ہیں، جس سے اردگرد کا ماحول مزید گرم ہو جاتا ہے۔ سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن اور سنگاپور-ای ٹی ایچ سینٹر کے محققین اس رجحان کو “رویوں سے جڑا ماحولیاتی اثر” قرار دیتے ہیں، جس میں انسانی عادات موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ایئر کنڈیشننگ فوری راحت فراہم کرتی ہے، لیکن طویل مدت میں شہروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بنیادی شہری منصوبہ بندی اور ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے

مزید پڑھیں