امریکہ کی سب سے بڑی ریاست میں اقتدار کی دوڑ بے نتیجہ، فیصلہ معلق، سیاسی ہلچل میں اضافہ
امریکہ کی سب سے بڑی اور سیاسی طور پر انتہائی اہم ریاست کیلیفورنیا میں گورنر کے انتخاب کی دوڑ ابھی تک کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، اور ابتدائی گنتی کے باوجود صورتحال بدستور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق تقریباً نصف ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود مقابلہ اتنا سخت ہے کہ حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ غیر معمولی تاخیر اس بات کی علامت ہے کہ اس بار مقابلہ صرف سخت نہیں بلکہ کئی دھڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس مقابلے میں تین بڑی شخصیات مرکزی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ریپبلکن امیدوار اور سابق میڈیا شخصیت اسٹیو ہلٹن، ڈیموکریٹ رہنما اور سابق وفاقی وزیر صحت زیویر بیکیرا، اور ارب پتی سماجی کارکن ٹام سٹیئر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں، اور تینوں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ دوسری طرف ریپبلکن امیدوار اور ریورسائیڈ کاؤنٹی کے شیرف چیڈ بیانکو اس دوڑ میں کافی پیچھے ہیں اور فی الحال اہم پوزیشن حاصل کرنے کی جدوجہد میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس انتخابی عمل کی طوالت اور ووٹوں کی سست گنتی نے سیاسی فضا کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور امکان یہی ہے کہ حتمی فیصلہ آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔


