چین کی دھات پر گرفت، جنگوں کے درمیان نیا عالمی بحران: نایاب دھات “ٹنگسٹن” کی سپلائی میں شدید کمی، عالمی صنعت اور جنگی نظام خطرے میں
چین کی دھات پر گرفت، جنگوں کے درمیان نیا عالمی بحران: نایاب دھات “ٹنگسٹن” کی سپلائی میں شدید کمی، عالمی صنعت اور جنگی نظام خطرے میں
بیجنگ / واشنگٹن: یوکرین اور ایران میں جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ ایک اور خاموش مگر انتہائی اہم بحران نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نایاب اور اسٹریٹجک دھات “ٹنگسٹن” کی سپلائی میں شدید کمی سامنے آئی ہے، جو جدید جنگی ساز و سامان سے لے کر صنعتی مشینری، ڈرل مشینوں اور بھاری آلات تک میں استعمال ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلسل جنگی حالات کے باعث عالمی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس نے اس دھات کو ایک نئے عالمی تنازع کی شکل دے دی ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹنگسٹن کی قلت صرف صنعتی مسئلہ نہیں بلکہ مستقبل کی جنگوں کی صلاحیت پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
اس صورتحال میں چین اس دھات کا سب سے بڑا عالمی سپلائر بن کر ابھرا ہے، اور مبصرین کے مطابق بیجنگ اس برتری کو ایک جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ سپلائی چین پر چین کی گرفت نے مغربی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
دوسری جانب قازقستان میں ایک نئے کان کنی منصوبے کو ممکنہ متبادل ذریعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس منصوبے سے ٹرمپ خاندان کی سرمایہ کاری کے مبینہ تعلق نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں سوالات کو جنم دیا ہے۔
کینیڈا میں قائم ایک کان کنی کمپنی، جس کے پاس جنوبی کوریا اور پرتگال میں ٹنگسٹن کی کانیں موجود ہیں، بھی امریکہ میں اس دھات کی پیداوار بڑھانے کے امکانات پر غور کر رہی ہے، تاکہ چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ بحران نہ صرف جنگی صنعت بلکہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور دفاعی توازن پر بھی طویل المدتی اثرات مرتب کرے گا


