امریکہ کا روسی تیل پر بڑا وار، بھارت سمیت ابھرتی معیشتوں کے لیے توانائی بحران کا خدشہ
امریکہ نے روسی سمندری تیل پر دی گئی رعایتیں ختم کرنے اور پابندیاں مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے یوکرین جنگ سے جڑے اقتصادی دباؤ کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارت سمیت کئی ابھرتی ہوئی معیشتیں ایک بار پھر جیوپولیٹکس اور توانائی کی ضروریات کے درمیان دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ 2022 کے بعد جب روسی خام تیل بڑی مقدار میں بھارت پہنچنا شروع ہوا تو اسے عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا، تاہم مغربی ممالک نے اسے مسلسل سیاسی زاویے سے دیکھا۔ ماہرین کے مطابق نئی پابندیاں عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا سکتی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے سستی توانائی کی رسائی مزید مشکل بنا سکتی ہیں


