اسرائیل واپس جاؤ، البانیہ کی زمین برائے فروخت نہیں”—متنازعہ مبینہ معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج، سڑکیں بند
اسرائیل واپس جاؤ، البانیہ کی زمین برائے فروخت نہیں”—متنازعہ مبینہ معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج، سڑکیں بند
تیرانا (البانیہ): البانیہ میں اس وقت شدید عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ اور اسرائیل کو البانیہ کے ایک علاقے کا حصہ فروخت کیے جانے سے متعلق ایک مبینہ پیش رفت ہوئی ہے۔ اس خبر کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔
دارالحکومت تیرانا سمیت کئی اہم شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا: “اسرائیل واپس جاؤ، البانیہ کی زمین برائے فروخت نہیں”۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ قومی خودمختاری اور زمین کی ملکیت کسی بھی غیر ملکی طاقت کے حوالے کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ احتجاجی ریلیوں میں نوجوانوں، طلبہ اور سول سوسائٹی کی بڑی تعداد شریک رہی۔
حکام کی جانب سے فوری طور پر اس مبینہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق معاملے کی نوعیت اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرے اور کسی بھی خفیہ یا متنازعہ معاہدے کی فوری وضاحت عوام کے سامنے پیش کرے۔
سیکیورٹی اداروں نے بعض شہروں میں مظاہروں کے دوران سڑکیں بند ہونے اور ٹریفک متاثر ہونے کی بھی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک کسی بڑے تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ اگر مزید شدت اختیار کرتا ہے تو البانیہ میں سیاسی بحران اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت پر اندرونی اور بیرونی دباؤ بھی بڑھنے کا امکان ہے


