نیند سے نہ جاگے تو سوتے میں مر جائیں گے
نیند سے نہ جاگے تو سوتے میں مر جائیں گے
ماحولیاتی بحران: پاکستان کی کمزوری صرف عالمی ناانصافی نہیں،اپنی کوتاہیاں بھی خطرہ بن گئیں
عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے موجودہ بحران کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کیا پاکستان جیسے ممالک واقعی صرف عالمی طاقتوں کی آلودگی کا شکار ہیں یا ان کے اپنے اندرونی مسائل بھی اس تباہی کو بڑھا رہے ہیں؟
یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا عالمی کاربن اخراج میں حصہ بہت کم ہے اور صنعتی سرگرمیوں کے اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک میں نہیں ہوتا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ شدید گرمی، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی اب روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات اور درختوں کا مجموعی رقبہ تقریباً بیالیس لاکھ ہیکٹر ہے جو ملک کے کل رقبے کا صرف پانچ فیصد بنتا ہے۔ فی شہری درختوں کی اوسط تعداد بھی محض پانچ درخت بتائی جاتی ہے، جبکہ عالمی اوسط تقریباً چار سو بائیس درخت فی انسان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک عام شہری کے حصے میں آنے والے درخت عالمی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔
اگر اس صورتحال کا تقابل دنیا کے بڑے ممالک سے کیا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ روس میں جنگلات کا رقبہ تقریباً اکیاسی کروڑ ہیکٹر سے زیادہ ہے اور ملک کا تقریباً انچاس فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ برازیل میں جنگلات کا رقبہ تقریباً انچاس کروڑ ہیکٹر ہے اور ملک کے لگ بھگ باسٹھ فیصد حصے پر جنگلات موجود ہیں۔ امریکہ میں بھی جنگلات کا رقبہ اکتیس کروڑ ہیکٹر سے زیادہ ہے اور تقریباً تینتیس فیصد زمین جنگلات سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا صرف پانچ فیصد جنگلاتی رقبہ اس بڑے فرق کو واضح کرتا ہے۔
تاہم سوال صرف درختوں کی تعداد کا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی نے ماحول پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ہر سال لاکھوں نئے افراد کو رہائش، خوراک، پانی، بجلی اور آمدورفت کی سہولیات درکار ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں زرعی زمینیں اور سبز علاقے سکڑتے جا رہے ہیں۔
شہری علاقوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔ دھواں چھوڑنے والی پرانی گاڑیاں، صنعتی آلودگی، ناقص فضلہ نظام، گندگی کے ڈھیر، کھلے نالے، کمزور نگرانی اور ماحولیاتی قوانین پر ناقص عملدرآمد ایسے عوامل ہیں جو مقامی سطح پر ماحول کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ بدانتظامی، کرپشن اور ریاستی غفلت بھی ہے۔
اسی وجہ سے بعض علاقوں میں گرمی کی شدت خطرناک حدوں کو چھونے لگی ہے۔ پنجاب اور سندھ کے کئی شہروں میں گرمی کے موسم میں محسوس ہونے والا درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات یہ ساٹھ ڈگری کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ ایسے حالات انسانی صحت، زرعی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سنگین خطرہ بن جاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی تاریخی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ صنعتی انقلاب سے لے کر آج تک دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی انہی ممالک نے پیدا کی اور عالمی حدت میں ان کا کردار سب سے بڑا رہا ہے۔ اسی لیے ترقی پذیر ممالک کا یہ مؤقف وزن رکھتا ہے کہ جن ممالک نے ماحول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، انہیں اس بحران کے حل میں بھی سب سے زیادہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
لیکن دوسری طرف یہ سوال بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کیا پاکستان جیسے ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ اگر جنگلات کا رقبہ مسلسل کم رہے، شہروں میں درخت نہ لگائے جائیں، قوانین پر عمل نہ ہو، آلودگی پھیلانے والوں کو سزا نہ ملے اور آبادی کے دباؤ کے مطابق منصوبہ بندی نہ کی جائے تو صرف عالمی طاقتوں کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف بیانات، کانفرنسوں اور عالمی دن منانے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے جنگلات میں اضافہ، شفاف حکمرانی، جدید صفائی کا نظام، صاف توانائی، بہتر شہری منصوبہ بندی اور آبادی کے دباؤ کو سنبھالنے والی مؤثر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر پاکستان جیسے ممالک نہ صرف عالمی موسمیاتی تبدیلی کے متاثرین رہیں گے بلکہ اپنی اندرونی کمزوریوں کی قیمت بھی چکاتے رہیں گے


